’جرائم پورے ملک کا مسئلہ ہیں‘، جنوبی افریقی سفیر نے سفید فام نسل کشی کا دعویٰ مسترد کردیا

ہفتہ 26 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی افریقہ کے امریکا میں نئے سفیر روئلف میئر نے کہا ہے کہ ملک میں سفید فام افریقی نسل کی اجتماعی نسل کشی کا کوئی وجود نہیں اور اس حوالے سے کیے جانے والے دعوے حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق روئلف میئر خود افریقی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور جنوبی افریقہ میں نسل پرستانہ نظام کے خاتمے کے لیے 1990 کی دہائی میں ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔ انہیں رواں سال اپریل میں امریکا میں جنوبی افریقہ کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔

میئر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود ایک ’پیدائشی افریقی‘ ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی میں سفید فام افریقیوں کے خلاف اس نوعیت کی اجتماعی کارروائی نہیں دیکھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا سے ملاقات کے دوران ملک میں سفید فام افراد کے خلاف ’نسل کشی‘ کا دعویٰ کرچکے ہیں۔ امریکی حکومت نے اس کے بعد سفید فام افریقیوں کے لیے خصوصی پناہ گزین پروگرام بھی شروع کیا۔

تاہم جنوبی افریقہ کی مختلف سیاسی جماعتیں، جن میں افریقی نسل کی نمائندگی کرنے والی جماعتیں بھی شامل ہیں، سفید فام افراد کی نسل کشی کے دعوے کو مسترد کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ اور افریقہ کا حجم برابر؟ دنیا کے نقشے کی پرانی تصویر پر سوالات

رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ میں جرائم اور فارموں پر حملے ایک حقیقی مسئلہ ہیں، تاہم پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں جرائم کا شکار ہونے والوں کی اکثریت سیاہ فام افراد پر مشتمل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فارموں پر ہونے والے حملوں کو مجموعی طور پر سفید فام افراد کی منظم نسل کشی یا نسلی بنیاد پر ظلم قرار دینا درست نہیں۔

دوسری جانب بعض سفید فام افریقی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ فارموں پر حملوں اور جرائم کے باعث خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ ایک شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے گھر پر متعدد بار لوگ داخل ہوئے، اگرچہ کوئی سامان چوری نہیں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت آئندہ 12 ماہ کے دوران مزید 17 ہزار 500 سفید فام افریقیوں کو پناہ گزین کی حیثیت سے امریکا میں داخل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

میئر نے امریکا پر زور دیا کہ جنوبی افریقہ میں جرائم سے نمٹنے کے لیے پابندیوں کے بجائے ملک کو وسائل اور دیگر عملی مدد فراہم کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp