روزانہ کی خوراک میں اسنیکس سمیت الٹرا پراسیسڈ چیزیں کتنی خطرناک، 88 لاکھ افراد کے ڈیٹا سے اہم انکشاف

پیر 28 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہم روزمرہ زندگی میں ایسی بہت سی غذائیں استعمال کرتے ہیں جو کھانے کے لیے فوراً تیار ہوتی ہیں یا صرف گرم کرکے کھائی جاتی ہیں مگر نئی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال دل، وزن، ذیابیطس، ہاضمے اور ذہنی صحت سمیت کئی دائمی مسائل کے بڑھتے خطرے سے وابستہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بہت زیادہ گرم چائے یا کافی غذائی نالی کو نقصان پہنچا کر کینسر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے

الٹرا پراسیسڈ غذائیں وہ مصنوعات ہیں جنہیں صنعتی سطح پر بہت زیادہ پروسیسنگ سے گزارا جاتا ہے۔ ان میں عموماً مختلف اضافی اجزا شامل ہوتے ہیں اور یہ نسبتاً زیادہ کیلوریز، نمک اور شکر جبکہ فائبر، پروٹین، وٹامنز اور معدنیات کی نسبتاً کم مقدار رکھ سکتی ہیں۔

پیک شدہ نمکو، بعض تیار شدہ گوشت کی مصنوعات، میٹھے مشروبات، فوری تیار ہونے والے کھانے اور کئی قسم کی تیار شدہ غذائیں اس زمرے میں شامل ہوسکتی ہیں۔

88 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ

فیملی میڈیسن اینڈ کمیونٹی ہیلتھ میں شائع ہونے والے اس تجزیے میں محققین نے اپریل 2026 کے اختتام تک شائع ہونے والی سابقہ تحقیقات کا جائزہ لیا۔

محققین کو ایسی 51 طویل مدتی مطالعات ملیں جن میں مجموعی طور پر 88 لاکھ 19 ہزار 894 افراد شامل تھے۔ ان تحقیقات میں امریکا سمیت مختلف خطوں، یورپ، ایشیا اور اوشیانا کے افراد کا ڈیٹا شامل تھا۔

شرکا کی اوسط عمریں 23 سے 77 سال کے درمیان تھیں جبکہ مختلف مطالعات میں ان کا 2 سے 32 سال تک فالو اَپ کیا گیا۔

محققین نے افراد کی غذائی عادات جاننے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جن میں کھانے سے متعلق سوالنامے 24 گھنٹے کے دوران کھائی جانے والی غذا کی تفصیل اور غذائی تاریخ شامل تھی۔

مزید پڑھیے: رات کا کھانا کب کھانا چاہیے؟ صرف غذا نہیں وقت بھی اہم ہے

نتائج میں مجموعی طور پر یہ بات سامنے آئی کہ الٹرا پراسیسڈ غذائیں زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں متعدد دائمی بیماریوں اور کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ زیادہ تھا۔

کن بیماریوں کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا؟

کم مقدار میں الٹرا پراسیسڈ غذائیں استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں دل اور خون کی شریانوں سے متعلق واقعات کا خطرہ 24 فیصد زیادہ، کینسر کا خطرہ 12 فیصد زیادہ، موٹاپے یا زیادہ وزن کا خطرہ 23 فیصد زیادہ، میٹابولک سنڈروم یا ذیابیطس کا خطرہ 24 فیصد زیادہ، ڈپریشن یا بے چینی کا خطرہ 27 فیصد زیادہ، نظامِ ہاضمہ کی بیماریوں کا خطرہ 31 فیصد زیادہ اور کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 18 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔

محققین نے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کی مقدار بڑھنے کے ساتھ خطرات میں کیا تبدیلی آتی ہے۔

نتائج کے مطابق روزانہ الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کی مقدار میں ہر اضافی 100 گرام اضافے کے ساتھ دل اور خون کی شریانوں سے متعلق مسائل کا خطرہ 14 فیصد، بلند فشارِ خون کا خطرہ 11 فیصد، کینسر کا خطرہ 4 فیصد، کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 3 فیصد جبکہ میٹابولک سنڈروم یا ذیابیطس کا خطرہ 2 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔

مسئلہ صرف ایک جزو کا نہیں

تحقیق کے سرکردہ مصنف ڈاکٹر ڈیوڈ شیاؤ لیو کے مطابق الٹرا پراسیسڈ غذاؤں اور مختلف بیماریوں کے درمیان تعلق سامنے آنا حیران کن نہیں کیونکہ اس حوالے سے پہلے بھی متعدد الگ الگ تحقیقات ہوچکی ہیں۔

ان کے مطابق ایسی غذائیں جسم پر ایک ہی راستے سے اثر انداز نہیں ہوتیں بلکہ ان میں موجود زیادہ شکر، نمک اور کیلوریز، مختلف اضافی اجزا، غذائی اجزا میں کمی اور بعض صورتوں میں پیکیجنگ سے آنے والے آلودہ عناصر سب ممکنہ طور پر اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ الٹرا پراسیسڈ خوراک ایک بہت وسیع زمرہ ہے اور ہر مصنوعات میں استعمال ہونے والے اجزا، پروسیسنگ کا طریقہ اور پیکیجنگ مختلف ہوسکتی ہے اس لیے کسی ایک عامل کو تمام بیماریوں کا ذمہ دار قرار دینا ممکن نہیں۔

مختلف اضافی اجزا کا ملا جلا اثر بھی زیر بحث

محققین نے یہ امکان بھی بیان کیا کہ مختلف غذائی اضافی اجزا ایک ساتھ استعمال ہونے کی صورت میں جسم پر مشترکہ اثر ڈال سکتے ہیں، جسے بعض ماہرین ’کاک ٹیل ایفیکٹ‘ کہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: الٹرا پراسیسڈ غذاؤں سے بچنے کے آسان طریقے، صحت بخش متبادل کونسے؟

اس تصور کے مطابق مسئلہ صرف کسی ایک اضافی جزو کا نہیں بلکہ مختلف اجزا کے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جسم پر اثر انداز ہونے کا بھی ہوسکتا ہے۔

کچھ سابقہ تحقیقات میں مختلف رنگوں، ذائقہ بڑھانے والے اجزا اور مصنوعی مٹھاس سمیت بعض اجزا کے مجموعی اثرات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں تاہم محققین کے مطابق یہ شعبہ ابھی مزید تحقیق کا متقاضی ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی مطالعات کی ضرورت ہے۔

آنتوں کے جراثیم اور جسم میں سوزش سے بھی تعلق

تحقیق میں اس امکان کی طرف بھی توجہ دلائی گئی کہ انتہائی زیادہ پروسیسنگ کے دوران خوراک میں ہونے والی جسمانی اور کیمیائی تبدیلیاں آنتوں میں موجود مفید جراثیم کے توازن کو متاثر کرسکتی ہیں۔

آنتوں میں موجود یہ جراثیم مجموعی صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے توازن میں تبدیلی ممکنہ طور پر جسم میں سوزش اور انسولین کے خلاف مزاحمت جیسے عوامل سے منسلک ہوسکتی ہے جو آگے چل کر مختلف بیماریوں کے خطرے پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

تاہم ان تعلقات کے درست طریقۂ کار کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔

زیادہ شکر، نمک اور کیلوریز بھی اہم مسئلہ

ماہرین کے مطابق الٹرا پراسیسڈ غذاؤں سے وابستہ خطرات کی ایک بڑی وجہ ان میں موجود زیادہ شکر، نمک اور کیلوریز بھی ہوسکتی ہیں، جنہیں پہلے ہی صحت کے مختلف مسائل کے خطرے سے جوڑا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں

اس کے علاوہ بعض غذاؤں کی تیاری کے دوران زیادہ درجہ حرارت پر ایسے کیمیائی مرکبات بھی بن سکتے ہیں جو صحت کے لیے تشویش کا باعث سمجھے جاتے ہیں۔

پیکیجنگ کے حوالے سے بھی بعض تحقیق میں ایسے چھوٹے پلاسٹک ذرات کی موجودگی پر توجہ دی گئی ہے جو انسانی جسم میں پہنچ سکتے ہیں، تاہم یہ واضح کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے کہ ان کا طویل مدتی صحت پر کتنا اثر پڑتا ہے۔

تحقیق کی کچھ اہم حدود بھی ہیں

محققین نے واضح کیا کہ یہ تجزیہ الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کے استعمال اور مختلف بیماریوں کے درمیان تعلق ظاہر کرتا ہے لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ غذائیں براہِ راست ان بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔

اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ شامل کی گئی تمام تحقیقات میں افراد کی غذائی عادات ان کے اپنے بتائے ہوئے ڈیٹا کی بنیاد پر معلوم کی گئی تھیں۔ انسان بعض اوقات یہ درست طور پر یاد نہیں رکھ پاتا کہ اس نے کیا اور کتنی مقدار میں کھایا تھا۔

اس کے علاوہ زیادہ الٹرا پراسیسڈ خوراک کھانے والے افراد کی زندگی کے دیگر معمولات بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی جسمانی سرگرمی، وزن، نیند، معاشی حالات اور دیگر غذائی عادات مختلف ہوسکتی ہیں۔ اس لیے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ صحت کے نتائج میں صرف الٹرا پراسیسڈ خوراک کا کتنا حصہ ہے۔

تحقیق میں 18 سال سے کم عمر افراد بھی شامل نہیں تھے اس لیے ان نتائج کو بچوں اور نوعمر افراد پر براہِ راست لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

تو پھر خوراک کے معاملے میں کیا کیا جائے؟

محققین کے مطابق اس تحقیق کے نتائج الٹرا پراسیسڈ غذاؤں اور طویل مدتی صحت کے درمیان ممکنہ تعلق کے حوالے سے سامنے آنے والے شواہد میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ماں بننے کا سفر یا ذہنی جنگ؟ حمل کے دوران غذائی امراض کی پوشیدہ حقیقت

ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی ایک غذا یا ایک جزو پر توجہ دینے کے بجائے مجموعی غذائی عادات کو بہتر بنانا زیادہ مفید ہے۔

روزمرہ خوراک میں تازہ سبزیوں، پھلوں، دالوں، ثابت اناج، گری دار میووں اور بیجوں جیسی کم پراسیس شدہ غذاؤں کو زیادہ جگہ دی جاسکتی ہے جبکہ فاسٹ فوڈ، گہری تلی ہوئی نمکو اور انتہائی زیادہ پراسیس شدہ تیار کھانوں کا استعمال کم کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہر الٹرا پراسیسڈ غذا کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے، بلکہ مجموعی طور پر ایسی غذاؤں کی مقدار بتدریج کم کرکے خوراک کو زیادہ قدرتی اور کم پراسیس شدہ غذاؤں کی طرف لے جانا زیادہ عملی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بحیرہ روم کی غذا بڑھاپے میں بھی ذہنی صحت بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، نئی تحقیق

مستقبل کی تحقیقات میں یہ جاننا بھی ضروری ہوگا کہ الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کی کون سی اقسام مخصوص بیماریوں کے ساتھ زیادہ مضبوط تعلق رکھتی ہیں، کتنی مقدار کے بعد خطرات میں نمایاں تبدیلی آتی ہے اور ان خطرات میں خوراک کی پروسیسنگ، غذائی اجزا اور مجموعی طرزِ زندگی میں سے کس کا کتنا کردار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp