وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان کی بیرونی سیکیورٹی کے حوالے سے ہماری فورسز بہترین انداز میں کام کر رہی ہیں، تاہم بیرونی سیکیورٹی کے ساتھ اندرونی سیکیورٹی بھی اہم اور توجہ طلب معاملہ ہے۔
سینئر افسرز لیڈرشپ کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی اور ترقی کے ساتھ اندرونی محاذ پر بھی بھرپور توجہ ضروری ہے، اچھی گورننس، مضبوط ادارے اور مؤثر نظام ہی اندرونی سیکیورٹی کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:مریم نواز سے یورپی پارلیمنٹ رکن میری فاطمہ خان ہولچ کی ملاقات، تجارت و ٹیکنالوجی پر گفتگو
انہوں نے کہا کہ اندرونی نظام میں خرابی اور کرپشن سیکیورٹی کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کے باوجود اندرونی نظام کی مضبوطی ضروری ہے، جب تک اندرونی نظام سیکیورٹی کو سپورٹ نہیں کرے گا، دیرپا ترقی ممکن نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ صورتحال میں پاکستان نے دنیا بھر میں اپنا نیا اور مثبت امیج اجاگر کیا، پالیسیوں میں تسلسل اور مضبوط اندرونی نظام پاکستان کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، ہر نئی حکومت سابقہ پالیسیوں کو تبدیل کرکے نیا ایجنڈا لاتی ہے جس سے ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
پنجاب کی بہت سی آبادی علاج کے لیے حکومت پر انحصار کرتی ہے۔ اب پنجاب ون میپ کے ذریعے زمین کے اوپر اور نیچے موجود سہولیات سمیت پنجاب کی تمام معلومات ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گی، یعنی پنجاب اب ایک کلک کی دوری پر ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز pic.twitter.com/H55g0oX95E
— WE News (@WENewsPk) October 2, 2026
انہوں نے کہا کہ آج کی گفتگو پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ یا بلوچستان کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ہوگی، ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں، صوبائی اور علاقائی تفریق سے بالاتر ہوکر بات کرنی چاہیے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ چاروں صوبے پاکستان کا حصہ ہیں اور صوبائی اختلافات سے بالاتر ہوکر قومی سوچ اپنانا ہوگی۔ صوبوں کو اختیارات دیے گئے تاکہ وہ اپنے فیصلے کریں اور ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں، تاہم اختیارات کی تقسیم کا مطلب یہ نہیں کہ صوبے الگ الگ ملک بن گئے ہیں۔
انہوں نے وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد، تعاون اور مؤثر رابطے کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کو قومی مفاد میں مل کر کام کرنا ہوگا۔
افغانستان سے متعلق مریم نواز نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ اور مسلم برادر ملک ہے، ہم ہمسایوں کے ساتھ زیرو کانفلیکٹ چاہتے ہیں، تاہم اگر کوئی ہمسایہ ملک اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دے تو ریاست اس معاملے کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کو پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے کسی بھی سرحدی علاقے کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں:وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے اب تک کسی صوبائی وزیر سے ون ٹو ون ملاقات نہیں کی؟
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں حکومتی نظام اور اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے، صوبے میں امن و امان کے لیے پولیس، انفورسمنٹ ایجنسیز اور سیف سٹی نظام فعال ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو مکمل طور پر روکنے کی ضمانت کوئی انسان نہیں دے سکتا، قیادت کا مطلب اپنی اپنی فیلڈ، ادارے اور تنظیم کو مؤثر انداز میں آگے لے کر چلنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمیں حکومتی کارکردگی اور قیادت کے حقیقی تقاضوں پر بات کرنی چاہیے، میری تقریر کے بجائے اس کے اصل مقصد اور پیغام کو سمجھنا زیادہ اہم ہے۔














