پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں 4 اکتوبر کے احتجاج کے حوالے سے مؤثر کردار ادا نہ کرنے پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس پر شدید تنقید کی گئی ہے۔
ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے 2 اراکین قومی اسمبلی نے بتایا، ‘محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس دونوں پارلیمنٹ ہاؤس میں بیٹھنے کے بجائے پی ٹی آئی کے لیے مزاحمت یا مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔ پارٹی مزید ابہام کی متحمل نہیں ہوسکتی۔’
یہ بھی پڑحیں: حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں مثبت پیشرفت، مزید آگے بڑھنے کے لیے بات چیت کل دوپہر تک ملتوی
پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا تھا۔
4 اکتوبر کے احتجاج کے حوالے سے پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین نے سوال اٹھایا، ‘محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نہ تو مذاکرات کر رہے ہیں اور نہ ہی پی ٹی آئی کے احتجاج کا حصہ بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان دونوں کو یا تو مذاکرات کا حصہ بننا ہوگا یا سہیل آفریدی کے ساتھ کنٹینر پر بیٹھنا ہوگا۔’
پارٹی کے دو دیگر اراکین نے بھی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے رویے پر شکایت کرتے ہوئے بتایا، ‘پی ٹی آئی جب بھی احتجاج یا جلسے کا انعقاد کرتی ہے تو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈرز اسٹیج پر بیٹھ کر لمبی تقریریں کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر عمران خان کی رہائی کے لیے کوششیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔’
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
پارٹی کے متعدد اراکین نے اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر سے سوال کیا کہ ‘پی ٹی آئی کو اس وقت اخلاقی حمایت سے زیادہ عملی مزاحمت کی ضرورت ہے۔ اگر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس یہ کام نہیں کرتے تو دونوں کو ہٹا کر کم از کم پی ٹی آئی کی صفوں سے ان عہدوں پر لوگوں کو بٹھایا جائے۔’













