پاپائے روم پوپ لیو 14 نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر انسانی فن اور مشین کی تیار کردہ تخلیقات کے درمیان واضح فرق کو لازمی قرار دیتے ہوئے انسانیت کے تحفظ کے لیے چرچ اور فنکاروں کے درمیان نیا اتحاد قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 اکتوبر کو فنکاروں اور کیوریٹرز کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران پوپ لیو 14 نے کہا کہ موجودہ دور میں انسانی اندازِ فکر سے ابھرنے والے فن اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیش کی جانے والی اشیا کا فرق سمجھنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پوپ لیو کا اے آئی کے حوالے سے عالمی اخلاقی نگرانی کا مطالبہ، تباہی سے خبردار کر دیا
انہوں نے وضاحت کی کہ محض جمالیاتی سطح پر ہی نہیں بلکہ وجودی اعتبار سے بھی دونوں میں بنیادی فرق موجود ہے، کیونکہ الگوریتھم لاکھوں تصویروں کے اعداد و شمار اور حساب کتاب پر مبنی ہوتے ہیں اور ان میں انسانیت کی رمق یعنی جذبہ مفقود ہوتا ہے۔
چرچ اور فنکاروں کا تاریخی اتحاد
پوپ لیو 14 نے اپنے پیغام میں سینٹ پال 6 کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چرچ اور فنکاروں کا بنیادی مقصد انسانیت کی حفاظت کرنا اور انجیل کے پیغام کو عام کرنا ہے۔
اپنے انسائیکلیکل ’میگنیفیکا ہیومنیٹس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فن حقیقت کی تلاش اور انسانی عقل کی گہری فکر کا نتیجہ ہوتا ہے، اسی لیے چرچ ثقافتی اداروں اور فنکاروں کے ساتھ اس اشتراک کو نئی جلا بخشنا چاہتا ہے تاکہ انسانی وجود کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
ویٹیکن کی اے آئی کمیشن اور خبردار کرنے والے اقدامات
پوپ نے مصنوعی ذہانت کے اثرات کو منظم کرنے اور چرچ کی حکمتِ عملی کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ویٹیکن کے تحت ایک خصوصی اے آئی کمیشن بھی قائم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی یورپی معیشت کی پیداوار بڑھا سکتی ہے مگر معاشی عدم مساوات کا خطرہ بھی ہے، آئی ایم ایف
انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ سائنسدانوں اور اے آئی ریسرچرز کی جانب سے جاری کردہ انتباہات کو ہلکا نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ مشینوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے انسان کے روزمرہ امور کا کنٹرول مشینوں کے ہاتھ میں جانے کا خطرہ ہے۔
خاموشی کے بجائے عملی اقدامات کا عزم
پاپائے روم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا اور یہ تماشہ دیکھنا کہ کچھ نہیں ہوگا، ایک سنگین غلطی ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ انسانی خودمختاری اور اخلاقی قدروں کی بقا کے لیے ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کے خلاف مستقل جدوجہد اور عملی اقدامات جاری رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔














