سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اسٹاک بروکر سندھ میں سیلز ٹیکس ادا کرنے کا ذمہ دار ہے کیونکہ اس کے کلائنٹس کے لیے کیے جانے والے حصص کے لین دین کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کراچی آٹومیٹڈ ٹریڈنگ سسٹم یعنی کیٹس کے ذریعے مکمل ہوتے ہیں۔
جسٹس محمد عبدالرحمٰن اور جسٹس ڈاکٹر شاہ نواز میمن پر مشتمل سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے لاہور میں قائم اسٹاک بروکر ظفر سیکیورٹیز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی جانب سے دائر 2 سیلز ٹیکس ریفرنس درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بی آر ٹی منصوبوں کے لیے مہنگے قرضوں کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر
عدالت کے فیصلے کے مطابق یکم جولائی 2017 سے اسٹاک بروکر کی وہ خدمات سندھ میں قابلِ ٹیکس ہوں گی جن کے تحت اس کے کاروباری لین دین پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کیٹس کے ذریعے انجام پاتے ہیں، خواہ اسٹاک بروکر یا اس کے کلائنٹس کسی بھی دوسرے صوبے میں موجود ہوں۔
سندھ ریونیو بورڈ نے ظفر سیکیورٹیز کے خلاف مالی سال 17-2016 سے 21-2020 تک 3 کروڑ 25 لاکھ روپے جبکہ مالی سال 22-2021 کے لیے 1 کروڑ 7 لاکھ روپے کے سیلز ٹیکس مطالبات عائد کیے تھے۔
مزید پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے نائلہ رند خودکشی کیس میں عمر قید پانیوالے ملزم کو بری کر دیا
کمپنی کا مؤقف تھا کہ وہ لاہور میں اپنے دفتر سے پنجاب، خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوں میں مقیم کلائنٹس کو خدمات فراہم کرتی ہے اور انہی خدمات پر پنجاب ریونیو اتھارٹی کو پہلے ہی سیلز ٹیکس ادا کیا جا چکا ہے۔
ظفر سیکیورٹیز کے وکیل جہانزیب سکھیرا نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی پنجاب میں قائم ہے اور اپنی خدمات بھی پنجاب سے فراہم کرتی ہے، اس لیے سندھ حکومت کو پنجاب میں مقیم شخص یا وہاں کاروبار کرنے والے ادارے پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں۔
مزید پڑھیں: کراچی، ولیکا اسپتال میں درجنوں بچوں میں ’ایچ آئی وی‘ کا انکشاف، سندھ ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کرلی
انہوں نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ ایک ہی سروس پر دو صوبوں کی جانب سے ٹیکس کا نفاذ آئین کے آرٹیکل 141 اور بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ سندھ فنانس ایکٹ 2017 نے یکم جولائی 2017 سے ’سندھ میں کاروباری مقام‘ کی تعریف میں ایسی معاشی سرگرمیوں کو بھی شامل کر دیا ہے جو ورچوئل موجودگی، ویب سائٹ، ویب پورٹل یا کسی بھی قسم کی ای کامرس کے ذریعے انجام دی جائیں۔
فیصلے کے مطابق ظفر سیکیورٹیز کے کلائنٹس کے لیے کی جانیوالی ٹرانزیکشنز کیٹس کے ذریعے کراچی میں انجام پاتے ہیں، جہاں آرڈرز بھیجے جاتے، میچ کیے جاتے اور پھر ان پر عمل درآمد ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: میر رضا قتل کیس: سندھ ہائیکورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست مسترد کردی
اس بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ اسٹاک بروکر کم از کم جزوی طور پر سندھ میں کاروبار کر رہا ہے۔
عدالت نے تاہم یکم جولائی 2017 سے قبل کی مدت کے لیے سیلز ٹیکس کا مطالبہ ختم کر دیا اور اس سلسلے میں اپنے سابقہ فیصلے سمٹ کیپیٹل کیس کو بنیاد بنایا۔
سندھ ہائیکورٹ نے دوہرے ٹیکس اور آئین کے آرٹیکل 141 کے تحت ٹیکس کے جواز کا حتمی فیصلہ نہیں دیا، عدالت کے مطابق ریفرنس دائرہ اختیار میں ان معاملات کا فیصلہ ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: کراچی یونیورسٹی کی اپیل منظور، سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
دریں اثنا ظفر سیکیورٹیز نے اسٹاک بروکر خدمات پر ٹیکس عائد کرنے کے صوبائی اختیار کے تعین کے لیے دسمبر 2025 میں نیشنل ٹیکس کونسل سے رجوع کر رکھا ہے۔
درخواست پر فیصلہ نہ ہونے کے بعد کمپنی نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جس نے نیشنل ٹیکس کونسل کو تمام متعلقہ فریقین کو سن کر 2 ہفتوں میں وجوہات پر مبنی فیصلہ دینے کی ہدایت کی، تاہم کونسل تاحال درخواست پر فیصلہ نہیں کر سکی۔













