وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے تحت 5 روڈ منصوبوں کا ڈیجیٹل افتتاح کردیا، جس کے بعد ان سڑکوں کا انتظام و انصرام نجی شعبے کے سپرد کردیا جائے گا۔
پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے تحت منتقل کیے جانے والے منصوبوں سے حکومت پنجاب کو 22 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔
منصوبوں میں مریدکے نارووال 80 کلومیٹر، شکرگڑھ نارووال 33 کلومیٹر، فیصل آباد رنگ روڈ 97 کلومیٹر، فیصل آباد ساہیانوالہ 52 کلومیٹر اور فیصل آباد سمندری رجانہ 56 کلومیٹر طویل سڑکیں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے 52 شہروں میں ترقیاتی منصوبے تیزی سے جاری، عظمیٰ بخاری
پی پی پی موڈ پر منتقل ہونے والی سڑکوں پر جدید الیکٹرانک ٹول پلازے قائم کیے جائیں گے۔ نجی کنٹریکٹر سات سال تک ٹول کلیکشن کرے گا جبکہ متعلقہ سڑکوں کی دیکھ بھال، تعمیر و مرمت کی ذمہ داری بھی نجی کمپنی کی ہوگی۔
پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
پنجاب میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا نیا باب
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے تحت 5 اہم روڈ پراجیکٹس کا ڈیجیٹل افتتاح کر دیا۔ 299 کلومیٹر سڑکیں نجی شعبے کے سپرد ہوں گی، جبکہ پنجاب حکومت کو 22 ارب روپے ریونیو حاصل ہوگا۔@MaryamNSharif pic.twitter.com/nsQH23AmZ5— Kamran Atta(سرگودھا) (@KamranAtta88852) October 4, 2026
انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی کے تحت ہاسٹلز، ہسپتالوں، پارکس، اسپورٹس گراؤنڈز، ویسٹ ٹو انرجی، پارکنگ پلازوں، سیاحت، واٹر سپلائی اور ری سائیکلنگ کے منصوبے بھی پائپ لائن میں ہیں۔
صنعتی زونز میں زہریلے پانی کی صفائی کے لیے افلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی پی پی پی موڈ میں قائم کیے جائیں گے، جبکہ زرافہ کیفے، ٹورازم اور فوڈ اسٹریٹ کے منصوبے بھی اسی ماڈل کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔
پنجاب میں مزید 4 سڑکیں بھی پی پی پی موڈ پر منتقل کی جائیں گی، جن میں بہاولپور یزمان 42 کلومیٹر، یزمان احمد پور شرقیہ 43 کلومیٹر، رائیونڈ چھانگا مانگا 28 کلومیٹر اور گجومتہ قصور 26 کلومیٹر طویل سڑکیں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا ماحول دوست اقدام، ’لیکوئیڈ ٹری ‘منصوبے کو وسعت دینے کا فیصلہ
چکوال اور قصور میں واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کے منصوبے بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔
لاہور میں ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے تحت ٹائم ٹریول پارک، بادامی باغ لاری اڈہ میں پارکنگ پلازہ اور ملٹی ماڈل کمرشل فسیلٹی جبکہ دریائے ستلج پر ساہوکا پتن کے مقام پر پل کی تعمیر بھی پی پی پی منصوبوں میں شامل ہے۔
پنجاب کی سبزی و فروٹ منڈیوں میں سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے بلیک سولجر فلائی لاروا منصوبہ، 100 اسپورٹس گراؤنڈز کی مینجمنٹ اور فیصل آباد میں جدید ٹرک ٹرمینل بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کے ڈیجیٹل گورننس ماڈل کی بڑی کامیابی، 2 منصوبے عالمی ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ
پنجاب یونیورسٹی سمیت 28 سرکاری یونیورسٹیوں میں گرلز اور بوائز ہاسٹلز، 3 میڈیکل کالجز میں ہاسٹلز اور صوبے بھر میں ورکنگ ویمن کے لیے 14 ہاسٹلز بھی پی پی پی ماڈل کے تحت بنائے جائیں گے۔
ساہیوال ٹیچنگ اسپتال میں نرسنگ ہاسٹل اور فریدیہ پارک ساہیوال کی آپریشن و ڈویلپمنٹ بھی اسی ماڈل کے تحت ہوگی۔
حکام کے مطابق ڈویژنل پی پی پی ورکنگ پارٹی کمشنر کی سربراہی میں 500 ملین روپے تک کے منصوبوں کی منظوری اور عملدرآمد کرسکے گی۔













