37 گیندیں، جب آفریدی افسانہ بنا

اتوار 4 اکتوبر 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

4 اکتوبر 1996 کو نیروبی کا کرکٹ میدان شاید اس بات سے بے خبر تھا کہ چند گھنٹوں بعد وہاں ہونے والی ایک اننگز کئی دہائیوں تک کرکٹ کی دنیا میں یاد رکھی جائے گی۔ دو روز قبل ڈیبیو کرنے والے اس بلے باز کو پہلے میچ میں بیٹنگ کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔

ایک 16 سالہ پاکستانی نوجوان کریز پر آیا، بیٹ گھمایا اور ایسی طوفانی بیٹنگ شروع کی کہ سری لنکا کے بولرز کو سمجھ ہی نہ آیا کہ یہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے اور اسے روکا کیسے جائے؟

شاہد آفریدی نے 37 گیندوں میں سینچری مکمل کی اور ایک ہی لمحے میں دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ یہ اس وقت ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی تیز ترین سینچری تھی۔ آفریدی نے صرف رنز نہیں بنائے تھے، انہوں نے کرکٹ کی ایک نئی زبان متعارف کرائی تھی، بے خوف، بے تکلف اور بے رحم۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ شاہد آفریدی جس ریکارڈ کو توڑا، وہ بھی اسی برس پاکستان کے ہی خلاف قائم ہوا تھا۔ 2 اپریل 1996 کو سنگاپور میں سری لنکا کے جارح مزاج بلے باز سنتھ جے سوریا نے صرف 48 گیندوں پر سینچری بنا کر ون ڈے کرکٹ کی تیز ترین سینچری کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔

جے سوریا نے پاکستان کے خلاف 65 گیندوں پر 134 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی، جس میں 11 چوکے اور 11 چھکے شامل تھے۔ صرف 6 ماہ بعد شاہد آفریدی نے ون ڈے کرکٹ کی تیز ترین سینچری اپنے نام کرلی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جس نوجوان نے چند ہی گھنٹوں میں عالمی ریکارڈ توڑ دیا، وہ اس میچ کے لیے پاکستان کی ابتدائی ٹیم کا حصہ ہی نہیں تھا۔

شاہد آفریدی اُس وقت پاکستان انڈر 19 ٹیم کے ساتھ ویسٹ انڈیز کے دورے پر تھے۔ پاکستان کی سینئر ٹیم نیروبی میں موجود تھی، جہاں لیگ اسپنر مشتاق احمد کے زخمی ہونے کے بعد ایک متبادل کھلاڑی کی ضرورت پڑی۔ اور پھر اچانک فیصلہ ہوا کہ شاہد آفریدی کو ویسٹ انڈیز سے واپس بلا کر نیروبی بھیجا جائے۔

پاکستان انڈر 19 ٹیم کے کوچ ہارون رشید نے بتایا تھا کہ انہوں نے آفریدی کو بلا کر کہا کہ تمہیں ویسٹ انڈیز سے واپس بھیجا جا رہا ہے اور کینیا میں پاکستان کی سینئر ٹیم میں شامل ہونا ہے۔ ایک لمحے کے لیے نوجوان آفریدی کو یقین ہی نہیں آیا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔

یہ سفر اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ اسی دورے کے دوران پاکستانی انڈر 19 ٹیم کے ایک کھلاڑی سے متعلق تنازع سامنے آیا تھا۔ آفریدی کو اچانک واپس بھیجے جانے پر کچھ لوگوں کو شبہ ہوا کہ شاید ان کا تعلق بھی اسی معاملے سے ہو۔

یہاں تک کہ شاہد آفریدی کے بڑے بھائی طارق آفریدی نے بھی ہارون رشید کو فون کرکے پوچھا کہ آخر شاہد کو واپس کیوں بھیجا جا رہا ہے۔ جواب ملا تو پریشانی خوشی میں بدل گئی۔

دوسری طرف سری لنکا کی ٹیم ایک ایسے نوجوان بلے باز سے بالکل ناواقف تھی جس کا نام اگلے چند گھنٹوں میں کرکٹ کی دنیا میں گونجنے والا تھا۔ سری لنکا کے روشن مہانامہ بھی اس میچ کا حصہ تھے۔ ان کے مطابق سری لنکا اس وقت پاکستان اور بھارت کو شکست دے چکا تھا اور ٹیم کو اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد تھا۔

لیکن شاہد آفریدی؟ وہ ان کے لیے بالکل نیا نام تھا۔ اور پھر یہی نیا نام سری لنکا کے بولرز کے لیے ایک ایسی پہیلی بن گیا جس کا جواب انہیں پوری اننگز میں نہیں ملا۔

آفریدی نے روایتی انداز میں بیٹنگ نہیں کی۔ وہ گیند کو دیکھتے اور پوری طاقت سے میدان کے مختلف حصوں میں روانہ کردیتے۔ باؤنڈریز آتی گئیں، چھکے لگتے گئے اور اسکور بورڈ پر رنز تیز ترین سینچری کی جانب بڑھنے لگے۔

روشن مہانامہ کے مطابق سری لنکا کی ٹیم کے پاس سنتھ جے سوریا اور اروندا ڈی سلوا جیسے جارحانہ بلے باز موجود تھے، مگر اس دن مکمل طور پر آفریدی کا دن تھا۔ شاہد آفریدی نے صرف 37 گیندوں پر سنچری مکمل کی۔ یہ ون ڈے کرکٹ کی تیز ترین سینچری تھی۔

اس اننگز میں انہوں نے 11 چھکے اور 6 چوکے لگائے اور 102 رنز بنائے۔ صرف 37 گیندوں پر سینچری محض ایک ریکارڈ نہیں تھا، یہ ایک اعلان تھا۔ ایک ایسے بیٹسمین کا اعلان جو آنے والے برسوں میں اپنی جارحانہ بیٹنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جانے والا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ میدان میں موجود رمیز راجا نے ہی آفریدی کو بتایا کہ انہوں نے عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ رمیز راجا کے مطابق وہ اس وقت بیٹنگ کے لیے میدان میں جا رہے تھے اور آفریدی واپس آرہے تھے۔ راستے میں رک کر انہوں نے مذاقاً پوچھا: ’آپ نے میرے لیے کیا چھوڑا ہے؟۔‘

رمیز راجا کا جملہ بظاہر مذاق تھا، مگر اس میں اس اننگز کی پوری کہانی چھپی ہوئی تھی۔ آفریدی نے اتنی تیزی سے بیٹنگ کی تھی کہ آنے والے بلے بازوں کے لیے بھی رفتار کا وہ معیار چھونا آسان نہیں تھا۔

وقت گزرا اور آفریدی کا عالمی ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔ یکم جنوری 2014 کو نیوزی لینڈ کے کوری اینڈرسن نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 36 گیندوں پر سینچری بنا کر یہ ریکارڈ اپنے نام کرلیا، پھر اگلے ہی سال 18 جنوری 2015 کو جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز نے ویسٹ انڈیز ہی کے خلاف صرف 31 گیندوں پر سینچری بنا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔

آج 30 برس بعد بھی شاہد آفریدی کی 37 گیندوں کی سینچری تیز ترین ون ڈے سینچریوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ریکارڈ میں نمبر بدلنے کے باوجود اس اننگز کی یاد دھندلی نہیں ہوئی۔ کیونکہ کچھ ریکارڈ صرف اعداد نہیں ہوتے، وہ اپنے زمانے کی ایک پوری کہانی بن جاتے ہیں۔

اس اننگز کے ساتھ ایک اور دلچسپ داستان بھی جڑی ہوئی ہے۔ طویل عرصے تک یہ مشہور رہا کہ شاہد آفریدی نے جس بلے سے 37 گیندوں پر سینچری بنائی، وہ عظیم بھارتی بلے باز سچن ٹنڈولکر کا تھا۔

آفریدی نے اپنی کتاب میں بھی لکھا کہ وہ بلا سچن ٹنڈولکر کا تھا، جو وقار یونس کے پاس پہنچا تھا اور وقار نے وہ بلا انہیں بیٹنگ کے لیے دیا تھا۔ لیکن بعد میں وقار یونس نے اس کہانی کی ایک مختلف تفصیل بیان کی۔ ان کے مطابق وہ بلا سچن ٹنڈولکر کا نہیں بلکہ بھارتی بلے باز سوراو گنگولی کا تھا۔

وقار یونس نے بتایا کہ گنگولی سے دوستی کے باعث ایک موقع پر انہوں نے ان کا بلا دیکھا۔ گنگولی نے کہا کہ اس کا بیلنس بہت اچھا ہے اور اگر پسند آئے تو وہ اسے رکھ سکتے ہیں۔ وہی بلا وقار یونس کے پاس تھا۔

نیروبی میں جب انہوں نے شاہد آفریدی کو نیٹ میں جارحانہ بیٹنگ کرتے دیکھا تو انہیں بیٹنگ کے لیے جاتے وقت وہی بلا دے دیا۔ اور پھر تاریخ بن گئی۔37 گیندوں پر سینچری مکمل ہوئی تو وقار نے وہ بلا واپس نہیں لیا۔ انہوں نے اسے آفریدی کو تحفے میں دے دیا۔ ایک نوجوان کھلاڑی نے ریکارڈ ساز اننگز کھیلی تھی۔ اور شاید اس تاریخی اننگز کے بعد اس بلے کا اصل حقدار بھی وہی تھا۔

4 اکتوبر 1996 کو شاہد آفریدی نے صرف 37 گیندوں پر سینچری نہیں بنائی تھی۔ انہوں نے اپنی آمد کا اعلان کیا تھا۔ ایسے وقت میں جب ون ڈے کرکٹ میں جارحانہ بیٹنگ اپنی جگہ بنا رہی تھی، آفریدی کا انداز کسی نصاب کا پابند نہیں تھا۔ بس گیند، بیٹ اور ایک ایسا اعتماد جو اس عمر میں غیر معمولی دکھائی دیتا تھا۔

وقت کے ساتھ ریکارڈ ٹوٹتے گئے، نئے نام سامنے آتے گئے، مگر نیروبی کی وہ 37 گیندیں آج بھی شاہد آفریدی کی شناخت کا حصہ ہیں۔ کیونکہ دنیا نے اس دن صرف ایک تیز ترین سینچری نہیں دیکھی تھی بلکہ ’بوم بوم‘ کو جنم لیتے دیکھا تھا۔

(وہ کہانی پھر سہی!)

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp