امریکی سائنسدان کارل ڈائسرورتھ اور جرمن سائنسدان پیٹر ہیگمن اور جارج ناگل نے دماغ کے کام کرنے کے طریقہ کار کو سمجھنے میں مدد دینے والی روشنی اور آپٹوجینیٹکس سے متعلق دریافتوں پر 2026 کا نوبیل انعام برائے فعلیات و طب جیت لیا۔
سویڈن کے کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی نوبیل اسمبلی کے مطابق 54 سالہ کارل ڈائسرورتھ، 71 سالہ پیٹر ہیگمن اور 73 سالہ جارج ناگل کو ‘روشنی سے فعال ہونے والے آئن چینلز اور آپٹوجینیٹکس سے متعلق دریافتوں’ پر نوبیل انعام دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران جنگ بندی: نوبیل انعام کا اصل حق دار پاکستان ہے، اٹلی
نوبیل اسمبلی کے سیکریٹری جنرل تھامس پرلمین نے بتایا کہ آپٹوجینیٹکس کے ذریعے زندہ دماغ میں موجود انفرادی اعصابی خلیوں کی سرگرمی کو روشنی کی مدد سے فعال یا غیر فعال کرنا ممکن ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق یہ طریقہ دنیا بھر کی تجربہ گاہوں میں دماغ کے پیچیدہ راز جاننے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
محققین طبی آزمائشوں میں آپٹوجینیٹکس کی مدد سے ریٹینائٹس پیگمنٹوسا نامی بیماری کے باعث بینائی سے محروم افراد کی بینائی بحال کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے آنکھ کے پردہ بصارت میں روشنی سے حساس پروٹین داخل کیا جاتا ہے۔
محققین کو امید ہے کہ آپٹوجینیٹکس کی مدد سے سماعت کی پیوندکاری کے آلات کو بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے اور موجودہ برقی آلات کے مقابلے میں سماعت کے اعصاب کو زیادہ درست انداز میں متحرک کیا جاسکتا ہے۔
نوبیل انعام برائے فعلیات و طب ہر سال نوبیل انعامات کے اعلانات کا آغاز کرتا ہے، جس کے بعد طبیعیات، کیمیا، ادب، امن اور معاشیات کے شعبوں میں انعامات کا اعلان کیا جاتا ہے۔
کارل ڈائسرورتھ، پیٹر ہیگمن اور جارج ناگل 12 ملین سویڈش کرونا کی انعامی رقم آپس میں تقسیم کریں گے، جو تقریباً 1.2 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے۔
آپٹوجینیٹکس کی بنیاد کیسے پڑی؟
1990 کی دہائی کے آغاز میں پیٹر ہیگمن نے اس بات کا مطالعہ کیا کہ سبز کائی کی ایک قسم روشنی پر صرف نصف ملی سیکنڈ میں کس طرح ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے قیاس کیا کہ ایک مخصوص پروٹین روشنی کو جذب کرکے آئن چینل کے طور پر کام کرتا ہے۔
جارج ناگل نے اس نظریے کو جانچنے کے لیے سبز کائی کے جینیاتی مواد کو مینڈک کے انڈوں میں داخل کیا اور ‘چینل روڈوپسن-2’ نامی آئن چینل دریافت کیا، جو روشنی پڑنے پر فعال ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’نوبیل انعام ہم نہیں دیتے‘ ناروے کے وزیراعظم کا ٹرمپ کے بیان پر ردعمل
2003 میں دونوں سائنسدانوں نے تحقیق شائع کی کہ اس پروٹین کو انسانی اور ہیمسٹر کے خلیوں میں داخل کرکے روشنی کی مدد سے برقی تحریک پیدا کی جاسکتی ہے۔
2005 میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ کارل ڈائسرورتھ نے چوہوں کے اعصابی خلیوں میں اس تکنیک کا کامیاب مظاہرہ کیا، جبکہ ایک سال بعد اس طریقہ کار کو آپٹوجینیٹکس کا نام دیا گیا۔
نوبیل اسمبلی کے سیکریٹری جنرل تھامس پرلمین کے مطابق انہوں نے تینوں نوبیل انعام یافتگان سے بات کی اور تینوں اس اعزاز پر حیران اور خوش تھے۔ ان کے مطابق تینوں سائنسدانوں نے ایک ساتھ یہ انعام ملنے پر خوشی کا اظہار کیا اور ایک دوسرے کو دوست قرار دیا۔
1901 سے نوبیل انعامات کا سلسلہ جاری
سویڈن کے موجد اور صنعت کار الفریڈ نوبیل کی وصیت کے تحت 5 بنیادی نوبیل انعامات قائم کیے گئے تھے اور 1901 سے ان انعامات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران بعض مواقع پر ان میں تعطل بھی آیا۔
معاشیات کا نوبیل انعام بعد میں 1968 میں سویڈن کے مرکزی بینک نے قائم کیا۔
طب کے نوبیل انعام سے گزشتہ ایک صدی کے دوران سائنس کے شعبے میں اہم دریافتیں کرنے والے متعدد سائنسدانوں کو نوازا جاچکا ہے، جن میں 1945 میں پینسلین پر تحقیق کے اعتراف میں نوبیل انعام حاصل کرنے والے الیگزینڈر فلیمنگ اور 1930 میں انسانی خون کے گروپس دریافت کرنے پر نوبیل انعام حاصل کرنے والے کارل لینڈسٹائنر بھی شامل ہیں۔














