سائنسدانوں نے ممکنہ 9ویں سیارے کا سراغ لگا لیا

پیر 5 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نظام شمسی کے پراسرار 9ویں سیارے کی تلاش میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے کیوں کہ سائنسدانوں کو انفراریڈ ڈیٹا میں اس کا پہلا ممکنہ ثبوت مل گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو دوبارہ سیارہ قرار دیا جانا چاہیے؟ ماہرین فلکیات میں بحث پھر چھڑ گئی

سافٹ ویئر نے انفراریڈ ذرائع کے 13 ممکنہ جوڑوں کی نشاندہی کی۔ جانچ کے بعد صرف ایک باقی بچا۔ یہ 23 سالوں میں آسمان پر 47.5 آرک منٹ تک حرکت کر چکا ہے جو پورے چاند کی چوڑائی سے تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ ہے، اور یہ بالکل ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسا کہ دور دراز نظام شمسی میں نیپچون کے سائز کا سیارہ نظر آنا چاہیے۔

یہ اسے ممکنہ 9ویں سیارے کا پہلا مشاہداتی اشارہ بناتا ہے۔ یہ دریافت تائیوان کی نیشنل سنگھ ہوا یونیورسٹی کے ٹیری لونگ فان نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران تائیوان، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کی۔

کچھ محققین کا کہنا ہے کہ کچھ ٹی این اوز کی ترتیب اور ان کا مداری جھکاؤ ابھی تک دریافت نہ ہونے والے سیارے کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔

کیلکیولیشن کے مطابق اس کا بیضوی مدار تقریباً 300 اے یو ہوگا جو اسے سورج سے نیپچون کے مقابلے میں کم از کم 10 گنا زیادہ دور بناتا ہے۔ کئی آسمانی سروے کی کوششوں کے باوجود یہ ابھی تک غیر مصدقہ ہے۔

مزید پڑھیے: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

مسئلہ یہ ہے کہ روشنی کو زمین تک پہنچنے کے لیے سورج سے سیارے تک اور واپس سفر کرنا پڑے گا، اس طرح سورج سے دس گنا دور نیپچون کے سائز کا سیارہ 10,000 گنا مدھم ہو جائے گا۔

اس کے مدار کی غیر یقینی صورتحال دوسرا مسئلہ ہے اور کسی کو معلوم نہیں کہ دوربین کو بالکل کہاں اشارہ کرنا چاہیے۔

سیارے کا تھرمل اخراج صرف ایک سمت میں ہم تک پہنچے گا۔ انفراریڈ سپیکٹرم کا استعمال کرتے ہوئے 9واں سیارہ نظر آنے والی روشنی کے مقابلے میں 10,000 کے بجائے 100 گنا مدھم ہوگا۔ اس طرح خلا میں انفراریڈ دوربینیں ہی اس کا حل ہیں۔

اپنی تحقیق میں فان نے 2 انفراریڈ سروے سے حاصل کردہ مشاہداتی ڈیٹا کا تجزیہ کیا آئی آر اے ایس جسے سنہ 1983 میں لانچ کیا گیا تھا اور  اے کے اے آر آئی جسے سال 2006 میں لانچ کیا گیا وہ 23 سال کے وقفے سے کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: پلوٹو سے آگے پراسرار دنیا، سورج سے 6 ارب کلومیٹر دور یہ برفانی بستی کیسی ہوگی؟

اے یو 300 سے زیادہ فاصلے پر ایک سیارہ اتنی آہستہ حرکت کرے گا کہ وہ کسی بھی ڈیٹا سیٹ میں ساکن نظر آئے گا۔ تاہم دونوں مشنز کے درمیان یہ تھوڑا سا منتقل ہو گیا ہوگا۔ فان کے سافٹ ویئر نے ہر انفراریڈ ماخذ کو چھانٹا اور صرف ان کو رکھا جو تقریباً متوقع مقدار میں حرکت کر چکے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp