2026 کا نوبیل انعام برائے طبیعیات ایسے اہم تجربے پر کام کرنے والے سائنس دانوں کو دیا گیا ہے جس نے کائنات سے آنے والے انتہائی کم تعامل کرنے والے ذرات، جنہیں عام طور پر ’بھوت ذرات‘ کہا جاتا ہے، کے مطالعے میں نئی راہیں کھولی ہیں۔
مزید پڑھیں:آپٹوجینیٹکس پر تحقیق، جرمن اور امریکی سائنسدان نوبیل انعام کے حقدار
2026 کا نوبیل انعام برائے طبیعیات سائنس دان، بیلجیئم نژاد امریکی ماہرِ طبیعیات فرانسس ہالزن (Francis Halzen) کو دیا گیا ہے۔ انہیں IceCube Neutrino Observatory کی تیاری میں فیصلہ کن کردار اور خلا سے آنے والے انتہائی توانائی والے نیوٹروینو (Neutrinos) کی دریافت پر یہ اعزاز دیا گیا۔
ہالزن نے جنوبی قطب کی برف کے نیچے قائم اس بڑے نیوٹرینو آبزرویٹری کا تصور پیش کیا تھا، جسے ’بھوت ذرات‘ کا سراغ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
The 2026 Physics #Nobel goes to Francis Halzen for IceCube: a telescope buried 2 km deep in Antarctic ice that catches “ghost particles” from deep space. 🧊
And UPSC asked about IceCube back in Prelims 2015 👇 #NobelPrize #UPSC
— GyanGram (@GyanGram_UPSC) October 6, 2026
بی بی سی کے مطابق ان ذرات کو پکڑنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہ مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں اور قریباً بغیر کسی رکاوٹ کے خلا میں سفر کرتے ہوئے زمین تک پہنچ جاتے ہیں۔
نوبیل انعام یافتہ سائنس دانوں کے کام میں ایک حساس خلائی دوربین اور جدید ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے ان انتہائی کمزور ذرات کے سگنلز کا مشاہدہ ممکن ہوا۔ اس تحقیق سے سائنس دانوں کو ستاروں، کہکشاؤں اور کائنات کے انتہائی پُراسرار اور پرتشدد مظاہر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیں:نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈیوڈ گراس نے دنیا کے خاتمے کی مدت بتادی
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ’بھوت ذرات‘ کائنات کے ان حصوں کے بارے میں معلومات فراہم کرسکتے ہیں جنہیں روایتی روشنی یا دیگر برقی مقناطیسی ذرائع سے دیکھنا ممکن نہیں۔ ان کی دریافت اور مطالعہ جدید طبیعیات میں کائنات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔














