نوبیل انعام یافتہ ماہرِ طبیعیات ڈیوڈ گراس نے انسانیت کے مستقبل کے بارے میں ایک تشویشناک پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے انسان 50 برس بعد زندہ نہ رہ سکے۔
یہ بھی پڑھیں: علاقائی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مسلم اُمہ کا اتحاد ناگزیر ہے، اسحاق ڈار
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بنیادی طبیعیات کی تمام قوتوں کو یکجا کرنے کے سائنسی چیلنجز پر بات کی لیکن اس بات پر زور دیا کہ انسانیت کی بقا کا انحصار سائنسی ترقی سے زیادہ ہمارے اپنے اعمال پر ہے۔
ڈیوڈ گراس کئی دہائیوں سے اسٹرنگ تھیوری پر کام کر رہے ہیں تاکہ کششِ ثقل کو دیگر بنیادی قوتوں کے ساتھ جوڑا جا سکے۔ انہوں نے انسانیت کے طویل مدتی مستقبل پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے وقت کا ایک حصہ لوگوں کو یہ بتانے میں صرف کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں اگلے 50 سال تک زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
مزید پڑھیے: پاکستان نے خطے میں قیام امن کے لیے اہم اور مثبت کردار ادا کیا، رجب طیب اردوان
انہوں نے مزید کہا کہ کوانٹم گریویٹی کی مکمل تھیوری تک پہنچنے میں اصل رکاوٹ سائنسی نہیں بلکہ انسانیت کے پاس موجود محدود وقت ہے۔
گراس نے خبردار کیا کہ جوہری جنگ صرف 35 سال میں تہذیب کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے روس یوکرین جنگ، ایران کی صورتحال اور بھارت و پاکستان کے درمیان کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ غیر یقینی عالمی حالات میں جوہری جنگ کا خطرہ موجود ہے۔
مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ جنگ بندی سے عالمی منڈیوں میں بہتری، تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، اسٹاک مارکیٹس میں تیزی
واضح رہے کہ گراس کو حال ہی میں طبیعیات میں عمر بھر کی خدمات کے اعتراف میں بریک تھرو پرائز فاؤنڈیشن کی جانب سے 30 لاکھ ڈالر کا خصوصی انعام بھی دیا گیا ہے۔














