عمر رسیدہ افراد کی دماغی صحت اور کھانے کے اوقات میں ممکنہ تعلق سامنے آگیا

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نئی تحقیق میں عندیہ دیا گیا ہے کہ روزانہ کھانے پینے کا وقت 8 سے 9 گھنٹے تک محدود کرنے سے عمر رسیدہ افراد کی یادداشت، منصوبہ بندی اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت میں معمولی بہتری آسکتی ہے، تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور حتمی نتائج کے لیے مزید بڑے مطالعات کی ضرورت ہے۔

امریکن سوسائٹی فار نیوٹریشن کے سالانہ اجلاس میں پیش کی گئی ابتدائی تحقیق میں 50 سے 79 سال کی 47 خواتین کو شامل کیا گیا، جو زائد وزن یا موٹاپے کا شکار تھیں۔ تمام شرکا کو روزانہ تقریباً 500 کیلوریز کم لینے کی ہدایت کی گئی، تاہم انہیں 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: 2 سال کی عمر سے پہلے کم چینی کھانا دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، نئی تحقیق

ایک گروپ معمول کے مطابق تقریباً 12 گھنٹے کے دوران کھانا کھاتا رہا، جبکہ دوسرے گروپ کو روزانہ 8 سے 9 گھنٹے کے دوران تمام کھانے مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ عموماً اس گروپ کے کھانے کا وقت صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک رہا اور انہیں سونے سے 4 گھنٹے قبل کھانا ختم کرنے کی ترغیب دی گئی۔

تحقیق کے اختتام پر دونوں گروپوں کے وزن میں تقریباً یکساں کمی ہوئی، تاہم ذہنی صلاحیت جانچنے کے دوران دونوں گروپوں کے درمیان فرق سامنے آیا۔

مختصر وقت کے دوران کھانے والے افراد نے منصوبہ بندی، تنظیم اور مسائل حل کرنے سے متعلق ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ یادداشت اور سیکھنے سے متعلق کاموں میں بھی ان افراد نے نسبتاً کم غلطیاں کیں، تاہم محققین کے مطابق ان بہتریوں کے شواہد اتنے واضح نہیں تھے۔

چونکہ دونوں گروپوں کے وزن میں تقریباً یکساں کمی ہوئی، اس لیے محققین کا خیال ہے کہ ذہنی صلاحیت میں سامنے آنے والے فرق میں کھانے کے اوقات کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اعصابی درد کی دوا ’گیباپینٹن‘ کے دماغی صحت پر مضر اثرات کا انکشاف

ماہرین ابھی یہ مکمل طور پر نہیں جانتے کہ کھانے کے اوقات محدود کرنے سے دماغ کو ممکنہ فائدہ کیوں ہوتا ہے۔ ایک ممکنہ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ دن کے ابتدائی حصے میں کھانا جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی سے زیادہ ہم آہنگ ہوتا ہے، جو نیند، ہارمونز اور جسمانی تحول کو منظم کرتی ہے۔

محققین کے مطابق رات دیر سے بھاری کھانے سے گریز خون میں شکر کی سطح کو بہتر رکھنے، سوزش کم کرنے اور جسمانی تحول کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ یہ عوامل طویل مدت میں دماغی صحت سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ تمام ممکنہ وضاحتیں ہیں اور ان کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔

غذائی ماہر فریحہ جے نے تحقیق کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج دلچسپ ضرور ہیں لیکن تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اسے حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق تحقیق میں بہتری معمولی نوعیت کی تھی، تاہم اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کھانے کے اوقات یادداشت، مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور مجموعی ذہنی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مڈل اسکول کے بچے سائیکل، موٹر سائیکل چلائیں تو ان کی دماغی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

فریحہ جے کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ رات دیر سے زیادہ مقدار میں کھانے سے گریز بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ دن کے دوران کم کھاتے ہیں اور رات کو بہت زیادہ کھانا کھاتے ہیں، جس سے خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھنا مشکل ہو سکتا ہے اور سوزش میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق شام کے وقت جلد کھانا کھانے سے خون میں شکر کی سطح، خون کی نالیوں کی کارکردگی اور سوزش میں بہتری آ سکتی ہے، جو بالآخر دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp