’پانی اور واش روم کی سہولت نہیں، مٹی پر سوتے ہیں‘، لانگ مارچ میں شامل پی ٹی آئی کارکنان رات کیسے گزارتے ہیں؟

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رکن قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور مقامی پارٹی رہنماؤں کے بینرز لگائے گئے ہیں اور اسی کو کیمپ کا نام دیا گیا ہے، تاہم یہاں بنیادی سہولیات موجود نہیں۔ نہ واش رومز کا انتظام ہے، نہ پینے کے لیے صاف پانی دستیاب ہے اور نہ ہی سونے کا کوئی مناسب انتظام کیا گیا ہے۔ لوگ رات کے اندھیرے میں پہنچتے ہیں اور مٹی پر ہی سو جاتے ہیں۔

یہ کہنا تھا پاکستان تحریک انصاف کے کارکن امجد خان کا، جو لکی مروت سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ اسلام آباد لانگ مارچ کے قافلے میں شریک ہوکر پشاور پہنچے ہیں اور آگے روانگی کے لیے سہیل آفریدی کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

امجد خان نے بتایا کہ وہ اور دیگر لوگ 4 اکتوبر کی صبح ہی لکی مروت کے گنڈی چوک میں جمع ہوگئے تھے اور وزیراعلیٰ کی آمد کے بعد باقاعدہ اسلام آباد مارچ کا آغاز کیا۔ پھر لکی مروت سے کرک پہنچے، جہاں رات گزاری۔

پی ٹی آئی کیمپس میں انتظامات کیسے ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف نے لانگ مارچ کے شرکا کے لیے ہر ضلع میں، جہاں رات قیام ہوگا، خصوصی کیمپس قائم کرنے کا انتظام کیا ہے۔ کارکنوں کو بتایا گیا ہے کہ ان کیمپوں میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ تمام انتظامات کی ذمہ داری متعلقہ رکن قومی اسمبلی اور رکن صوبائی اسمبلی کی ہوگی۔

تاہم لکی مروت سے پشاور پہنچنے والے کارکنان کے مطابق انتظامات کے دعوے تو کیے گئے تھے، لیکن جہاں بھی رات گزاری، وہاں انہیں مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔

کوئٹہ سے آنے والے پی ٹی آئی کے ایک کارکن نے بتایا کہ کیمپس میں رات گزارنے والے افراد کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے، اس کے باوجود بھی کوئی مناسب انتظامات نہیں کیے جاتے۔

ان کا کہنا تھا، ’جس کیمپ میں بھی ہم گئے، وہاں بس وہاں کے اراکین نے اپنے بینرز لگائے ہوئے ہیں، باقی کچھ نہیں۔‘

پی ٹی آئی کے ایک اور کارکن نے بتایا کہ وہ رات گئے پشاور کے متنی میں قائم کیمپ پہنچے، جو کسی زیر تعمیر سرکاری کالج کی عمارت میں قائم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق عمارت چاروں اطراف سے کھلی ہے اور کارکنوں نے کھلے برآمدے میں رات گزاری۔

انہوں نے بتایا کہ پشاور میں موسم بھی تبدیل ہوگیا ہے اور رات کے وقت موسم ٹھنڈا ہوتا ہے، تاہم کارکن چادر کے ذریعے ہی گزارہ کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لانگ مارچ کے نام پر اربوں روپے کے فنڈز جمع کیے گئے تھے، تاہم موجودہ انتظامات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ پارٹی خرچ کرنے کو تیار نہیں۔ ان کے مطابق ان حالات میں آگے جانا مشکل ہو رہا ہے، تاہم وہ سوچ رہے ہیں کہ خود ہی کوئی بہتر انتظام کرلیں۔

’پانی اور واش رومز تک کی سہولت نہیں‘

امجد خان سمیت پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں نے بتایا کہ کیمپس میں بہتر انتظامات نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق بعض کیمپس میں پینے کے صاف پانی اور واش رومز تک کی سہولت موجود نہیں تھی۔

کارکنوں نے بتایا کہ وہ رات کے وقت ہی کیمپس پہنچتے ہیں، اس وقت وہاں مقامی کارکن بھی موجود نہیں ہوتے، جبکہ سیکیورٹی کے لیے صرف پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔

ایک کارکن کے مطابق، کھانے میں چاولوں کا ایک پیکٹ دیا جاتا ہے جبکہ ناشتہ وہ خود کرتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ لکی مروت، ٹانک اور کوئٹہ کے کارکنان ان کیمپس میں رات گزارتے ہیں، جبکہ مقامی کارکن اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق کرک اور کوہاٹ کے کارکن بھی واپس جا چکے ہیں، جس کے باعث رات کے وقت کیمپس میں کارکنوں کی تعداد چند سو تک رہ جاتی ہے۔

چوروں کا راج

پی ٹی آئی کے مارچ کے دوران رات کے وقت کیمپس میں چوری کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک کارکن نے بتایا کہ رات کو سوتے وقت کسی نے ان کا بیگ چوری کرلیا، جس میں کپڑے، موبائل چارجر اور دیگر ضروری سامان موجود تھا۔

انہوں نے بتایا، ’میں تھکا ہوا تھا، بیگ سر کے نیچے رکھ کر سو گیا، آنکھ کھلی تو بیگ نہیں تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ لکی مروت سے پشاور پہنچنے کے دوران کئی کارکن موبائل فون سے محروم ہوگئے ہیں۔ پولیس نے بھی متعدد چوریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور کے ایک صحافی کا موبائل فون بھی لانگ مارچ کی کوریج کے دوران چوری ہوگیا۔

تاہم پولیس کے مطابق ہجوم کے دوران چوروں کو پکڑنا یا ان کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے۔

کیا جگہ جگہ قیام سے کارکنان تنگ آ گئے ہیں؟

میڈیا کے کیمروں کے سامنے پی ٹی آئی کے کارکنان پرعزم دکھائی دیتے ہیں، تاہم آف کیمرا گفتگو میں وہ بتاتے ہیں کہ جگہ جگہ قیام ان کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

کوئٹہ سے آنے والے ایک کارکن نے بتایا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچنا ہے، لیکن کئی دن گزرنے کے بعد وہ صرف پشاور پہنچ سکے ہیں۔ ان کے مطابق وہ عمران خان کے نام پر نکلے ہیں، تاہم پارٹی قیادت مارچ کو طویل کررہی ہے، جو ان کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ تمام کارکنوں کو ایک ساتھ نکلنا چاہیے اور ڈی چوک پہنچ کر دھرنا دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا، ’خیبرپختونخوا نے عمران خان کو قید نہیں کیا ہے، پھر یہاں گھومنے کی کیا ضرورت ہے؟ سب ایک ساتھ نکلیں، اسلام آباد پہنچیں اور مطالبہ کریں۔‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ بڑی تعداد میں کارکنان لانگ مارچ میں شریک ہیں اور جہاں قیام ہوتا ہے، وہاں قائم کیمپس میں مناسب انتظامات کیے جاتے ہیں۔

سہیل آفریدی رات کہاں گزرتے ہیں؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اتوار سے لانگ مارچ کی قیادت کررہے ہیں اور منگل اور بدھ کی درمیانی شب پشاور پہنچ گئے۔

پی ٹی آئی کے مطابق سہیل آفریدی مارچ کی قیادت کررہے ہیں اور صبح، شام اور رات بھی کارکنوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔

تاہم پی ٹی آئی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی سہ پہر 3 بجے کے بعد مارچ کا آغاز کرتے ہیں اور دوسرے ضلع پہنچنے کے بعد رات کو کارکنوں سے الگ ہوجاتے ہیں، جبکہ اگلے روز سہ پہر دوبارہ مارچ کے آغاز کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔

کارکنوں کے مطابق سہیل آفریدی کیمپ پہنچنے کے بعد کنٹینر سے اپنے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ روانہ ہوجاتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ کیمپس میں وزیراعلیٰ کے قیام کے لیے کوئی انتظامات نہیں کیے جاتے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی نے کرک میں شاہد خٹک اور کوہاٹ میں شفع جان کے ہاں قیام کیا، جس کے بعد مارچ کی قیادت کرتے ہوئے پشاور پہنچے۔

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی نے پشاور میں رات وزیراعلیٰ ہاؤس میں گزاری اور بدھ کے روز کابینہ اجلاس میں شرکت کے بعد مارچ کو لے کر اپنے آبائی ضلع خیبر کے لیے روانہ ہوگئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp