وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ضلعے لنڈی کوتل کے واحد کیٹیگری اے اسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال لنڈی کوتل کے لیے 72 کروڑ روپے کی خطیر رقم منظور ہو چکی ہے تاہم علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کے بجائے یہ رقم ٹائلز اور مرمت کے کاموں پر خرچ کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لنڈی کوتل میں سیکیورٹی فورسز کا فری آئی میڈیکل کیمپ
علاقہ مکینوں نے منصوبے میں مبینہ بے قاعدگیوں اور رقم کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنگین کرپشن قرار دیا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اسپتال کو اس وقت ٹائلز اور ظاہری مرمت سے زیادہ آئی سی یو، سی سی یو اور ایمرجنسی سمیت بنیادی طبی سہولیات کی ضرورت ہے اس لیے منظور شدہ رقم ان شعبوں کی بہتری پر خرچ کی جانی چاہیے۔
مزید پڑھیے: خیبر میں ایچ آئی وی تیزی سے پھیلنے لگا، ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجادی
علاقہ مکینوں کے مطابق پرانے ٹائلز اتار کر نئے ٹائلز لگانے کے بجائے اسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات بہتر بنائی جائیں تاکہ علاقے کے لوگوں کو اپنے ہی شہر میں بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔
مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ 72 کروڑ روپے کے منصوبے میں ہونے والے اخراجات اور کاموں کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور یہ رقم حقیقی طبی ضروریات پر خرچ کی جائے۔
مزید پڑھیں: لنڈی کوتل میں مصنوعی اعضا کی مفت فراہمی، سینکڑوں افراد کے لیے نئی زندگی
ان کا الزام ہے کہ بنیادی سہولیات نظرانداز کرکے منصوبے کو صرف مرمت اور ٹائلز تک محدود کرنا عوامی مفاد کے بجائے کرپشن کی نذر ہونے کے مترادف ہے۔













