پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی منزل اب تک واضح نہیں ہوسکی جبکہ پارٹی قیادت کی جانب سے شیڈول بار بار تبدیل کیے جانے کے باعث کارکنوں اور ارکان اسمبلی کو بھی تذبذب کا شکار کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’پانی اور واش روم کی سہولت نہیں، مٹی پر سوتے ہیں‘، لانگ مارچ میں شامل پی ٹی آئی کارکنان رات کیسے گزارتے ہیں؟
کارکن اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے خواہاں ہیں جبکہ بظاہر صوبائی حکومت کا ساری توجہ قافلے کو خیبر پختونخوا میں ہی رکھنے پر ہے۔
پی ٹی آئی نے پہلی مرتبہ 27 ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تو اس وقت بھی یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ مارچ کہاں سے شروع ہوگا اور کہاں تک جائے گا۔ بعد میں 27 ستمبر کی تاریخ مؤخر کردی گئی تاہم نئی تاریخ کے ساتھ بھی کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔
4 اکتوبر کو لانگ مارچ شروع ہوا تو پارٹی کی جانب سے لکی مروت، کرک، کوہاٹ، پشاور، نوشہرہ اور صوابی کا شیڈول جاری کیا گیا تاہم بعد میں اس میں تبدیلی کرتے ہوئے صوابی کے بجائے خیرآباد کو اگلی منزل قرار دیا گیا۔
مزید پڑھیے: وزیراعظم کی مذاکرات کی آفر اب بھی موجود، پی ٹی آئی پہلے لانگ مارچ ختم کرے، رانا ثنااللہ
گزشتہ روز پی ٹی آئی کی جانب سے ایک اور پلان سامنے آیا جس کے مطابق لانگ مارچ کا قافلہ ضلع خیبر میں رات گزارے گا۔ اب شیڈول میں مزید تبدیلی کا امکان ہے اور قافلے کو خیبر سے مہمند، چارسدہ اور ملاکنڈ کے راستے صوابی لے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔
پارٹی قیادت کے مختلف پلان، کارکنوں میں بے یقینی
پارٹی کے اندر رابطوں اور لانگ مارچ کی منصوبہ بندی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جنید اکبر کی جانب سے نوشہرہ کے بجائے پشاور سے صوابی پہنچنے کا کہا گیا جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے خیرآباد کا پلان شیئر کیا۔
مزید پڑھیںـ: پی ٹی آئی لانگ مارچ، سہیل آفریدی کی پالیسی اب نہیں چلے گی، قیادت کا بڑا فیصلہ
دوسری جانب پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے 11 اور 12 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کردیا ہے کہ قافلے کا اخری پڑاؤ پیر ودھائی میں ہوگا لیکن وزیر اعلیٰ ضلع خیبر میں رات کو ایک نئے پلان کا بھی اعلان کریں گے۔ سہیل افریدی کی جانب سے بار بار کہا جارہا ہے کہ لانگ مارچ صوابی میں پہنچ کر اگے کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔













