قطر سے ایل این جی کا بحری جہاز اگلے 3 سے 5 دنوں میں پاکستان پہنچے گا، حکام کی تصدیق

جمعرات 8 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور قطر کے سفارتی تعاون سے قطر سے روانہ ہونے والا ایل این جی سے لدا ایک بڑا بحری جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد عمان کی سمندری حدود میں پہنچ گیا ہے، جہاں سے یہ گیس چھوٹے جہازوں میں منتقل کر کے اگلے 3 سے 5 دنوں کے اندر پاکستان پہنچائی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر کا ایک بڑا ‘کیو-میکس’ ایل این جی جہاز ’المافیار‘ آبنائے ہرمز کا کامیاب سفر مکمل کرنے کے بعد منگل کے روز عمانی سمندری حدود میں پہنچ گیا۔ چونکہ یہ ایک انتہائی بڑا جہاز ہے، اس لیے کھلے سمندر میں اس کی گیس نسبتاً چھوٹے بحری جہازوں (جن میں سے ایک کا نام ‘اجنان’ بتایا جاتا ہے) میں منتقل کی جائے گی، جس کے بعد یہ ایل این جی کارگو اگلے 3 سے 5 دنوں میں پاکستان پہنچ جائے گا۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا ایل این جی کارگو ہے جو پاکستان نے ایرانی حکام کے تعاون سے قطر سے حاصل کیا ہے۔ اس بڑے جہاز سے ‘شپ ٹو شپ’ (جہاز سے جہاز) منتقلی کے ذریعے پاکستان کے لیے دو چھوٹے جہازوں کا اہتمام کیا جائے گا، جبکہ تیسرے کارگو کا انتظام بھی جلد متوقع ہے۔ اگر پاکستان اکتوبر کے لیے مزید دو کارگو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو رواں ماہ کے لیے انتہائی مہنگی ‘سپاٹ ایل این جی’ خریدنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

یہ بھی پڑھیے حکومت کا نجی کمپنیوں کو براہ راست ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دینے پر غور

واضح رہے کہ اس وقت عالمی سپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمت 28 سے 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بلند ترین سطح پر ہے، جس کے تحت صرف ایک کارگو کی قیمت تقریباً 100 ملین ڈالر (10 کروڑ ڈالر) بنتی ہے جو پاکستان جیسے معاشی مشکلات کے شکار ملک کے لیے ایک سنگین مالی بوجھ ہے۔

اس سے قبل ستمبر میں بھی پاکستان نے قطر سے دو ایل این جی کارگوز حاصل کیے تھے جو 10 ستمبر اور 23 ستمبر کو ملک پہنچے تھے۔

تاہم، قطر انرجی کی جانب سے ‘فورس مجیور’ کی مسلسل توسیع نے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ آیا پاکستان نومبر اور آنے والی سخت سردیوں میں مطلوبہ مقدار میں ایل این جی حاصل کر سکے گا یا نہیں۔

ذرائع کے مطابق قطر میں بڑی تعداد میں خالی ‘کیو-فلیکس’ ایل این جی جہازوں کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ قطر انرجی بڑے پیمانے پر برآمدات کی بحالی کا ارادہ رکھتی ہے اور اس سلسلے میں خطے میں پائیدار امن کے لیے امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔

حکام کے اندازے کے مطابق، پاکستان کو دسمبر میں تقریباً 9 اور جنوری 2027 میں گیس کی کی شدید ترین طلب کے دوران کم از کم 11 ایل این جی کارگوز کی ضرورت ہوگی۔ اس وقت بھی پاور سیکٹر میں ایل این جی کی کم دستیابی کی وجہ سے ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ سردیاں بڑھنے کے ساتھ ہی طلب میں مزید نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر نومبر کے وسط سے فروری 2027 تک قطر کا ‘فورس مجیور’ برقرار رہا تو گیس کی فراہمی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں بجلی کے کارخانوں، برآمدی و غیر برآمدی صنعتوں، کمرشل صارفین، جنرل انڈسٹری، سیمنٹ اور سی این جی سیکٹر کو آر ایل این جی (RLNG) کی فراہمی پر سخت پابندیاں عائد کرنی پڑیں گی اور مقامی ‘سسٹم گیس’ کو صرف گھریلو صارفین کی کھانا پکانے کی بنیادی ضرورت کے لیے مختص کرنا پڑے گا۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ اگر سردیوں میں گیس کی کمی کا یہ فرق مزید بڑھا تو پائپ لائن کے گیس صارفین کو بھی بڑی تعداد میں ایل پی جی (LPG) سلنڈر استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اس سے ایل پی جی کی مانگ اور قیمتوں پر شدید دباؤ آئے گا۔ اوگرا کی مقرر کردہ قیمتوں کے برعکس اس وقت اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی سلنڈر 5,000 روپے سے زائد میں فروخت ہو رہا ہے، اور اگر بحران شدید ہوا تو 11.8 کلوگرام کا ایل پی جی سلنڈر 7,000 روپے یا اس سے بھی زیادہ تک پہنچ سکتا ہے، جس سے پہلے ہی مہنگائی کے مارے عوام پر مزید بوجھ پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیے توانائی کے ذخائر مزید بہتر، حکومت نے اسپاٹ مارکیٹ سے نئی ایل این جی کھیپ خرید لی

انفراسٹرکچر کی صورتحال کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ اینگرو (Engro) ایل این جی ٹرمینل اس وقت بالکل خالی اور دستیاب ہے کیونکہ 10 ستمبر کو آنے والا کارگو مکمل استعمال ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان گیس پورٹ (PGPL) ٹرمینل پر 23 ستمبر کے کارگو سے گیس کی ری گیسیفکیشن کا عمل سست کر دیا گیا ہے۔

فی الحال حکومت کی تمام تر توجہ اکتوبر کے تینوں قطر کارگوز کی بحفاظت آمد یقینی بنانے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی رسد کے لیے سفارتی راستے کھلے رکھنے پر مرکوز ہے۔ آنے والے ہفتے پاکستان کی توانائی کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے، جہاں حکومت کو مہنگی سپاٹ گیس، اضافی معاہدوں اور ملک میں گیس کی بگڑتی صورتحال کے درمیان ایک مشکل توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp