امریکی شہر نیویارک کے علاقے برونکس میں امیگریشن حکام کی کارروائی کے دوران ایک شخص کو گولی لگنے کے بعد احتجاج شروع ہوگیا، جبکہ میئر ظہران ممدانی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے زخمی شخص کو رہا کرنے اور ریاست میں امیگریشن حکام کی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی میڈیا ادارے فاکس نیوز کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکار نے جمعرات کو ایک مطلوب شخص کو گرفتار کرنے کی کارروائی کے دوران فائرنگ کی، جس سے وہ زخمی ہوگیا۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق یہ شخص ڈومینیکن ریپبلک سے تعلق رکھتا ہے اور اسے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
NOW: "This city wants ICE out" – Mayor Zohran Mamdani speaks to the press and protesters after ICE Agents shot and injured a man in Marble Hill NYC
Video by @yyeeaahhhboiii2 | Licensing @FreedomNTV [email protected] pic.twitter.com/Ro3IM0UIFM
— Oliya Scootercaster 🛴 (@ScooterCasterNY) October 9, 2026
ممدانی نے جمعرات کی شب پریس کانفرنس میں بتایا کہ واقعے کے بعد ان کی صدر ٹرمپ سے تقریباً 2 گھنٹے بات ہوئی۔ انہوں نے زخمی شخص کی رہائی کی درخواست کی، تاہم یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ ممدانی نے آئی سی ای پر شہریوں کو خوفزدہ کرنے اور بلا روک ٹوک کارروائیاں کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے بھی ٹرمپ اور وزیرِ ہوم لینڈ سیکیورٹی مارک وین مولن سے رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے ریاست میں آئی سی ای کی کارروائیاں روکنے اور فائرنگ کی باڈی کیمرا فوٹیج عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا، تاکہ واقعے کے حقائق سامنے آسکیں۔
نیویارک پولیس کمشنر جیسیکا ٹش کے مطابق زخمی شخص 28 سالہ ہے اور فائرنگ کے وقت اس کی گاڑی میں ایک 5 سالہ بچہ بھی موجود تھا، جسے اس واقعے میں کوئی چوٹ نہیں آئی۔ پولیس کے مطابق آئی سی ای کے کم از کم ایک اہلکار نے 7 گولیاں چلائیں، جن میں سے ایک شخص کی گردن میں بائیں کان کے نیچے لگی۔
یہ بھی پڑھیں:ظہران ممدانی اور راما دواجی کی ٹرین کے اندر لی گئی تصاویر وائرل، فوٹوگرافر نے کہانی بتادی
واقعے کے بعد سینکڑوں مظاہرین اسپتال کے باہر جمع ہوگئے اور آئی سی ای کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی، جبکہ پولیس نے بعض افراد کو گرفتار کرلیا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے زخمی شخص کے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ اور ایک گینگ سے مبینہ تعلق کا بھی ذکر کیا ہے۔ فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔














