بھارتی اداکارہ و ماڈل تنوشری دتہ نے اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال سے متعلق سامنے آنے والی خبر پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے لیے یہ ’شیطان کی موت‘ کے مترادف ہے۔ تنوشری ماضی میں نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کر چکی ہیں جن کی اداکار نے تردید کی تھی۔
می ٹو مہم کے دوران منظرِ عام پر آنے والے اس تنازع کے حوالے سے تنوشری دتہ کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال لکھنؤ میں اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات پر توجہ دینا چاہتی ہیں جہاں ان کی ایک تقریب بھی طے ہے۔
اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر لائیو آنے اور اپنے کام سے متعلق مواد شیئر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم نانا پاٹیکر کے انتقال کی خبر کے بعد انہیں خدشہ ہے کہ ساری توجہ ان کے ردعمل کی جانب منتقل ہوجائے گی۔
تنوشری کا کہنا تھا کہ وہ مناسب وقت پر اس معاملے پر اپنا ردعمل دیں گی جب انہیں یہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا کہ اس حوالے سے کیا کہنا چاہیے۔ انہوں نے اس موقع پر نانا پاٹیکر کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نانا پاٹیکر نے موت سے 2 روز پہلے کیا کہا تھا؟ آخری گفتگو کی تفصیلات سامنے آگئیں
تاہم بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ نے اپنے جذبات کا اظہار مزید سخت الفاظ میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے کو ان کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ شیطان کی موت ہے کیونکہ ان کے بقول وہ بہت زیادہ پریشانیاں جھیل چکی ہیں۔
تنوشری دتہ نے می ٹو مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران انہیں کن حالات کا سامنا کرنا پڑا اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتی ہیں۔ اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ انہیں ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا اور ان کی گاڑی کے بریک بھی ناکارہ کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: موت سے قبل نانا پاٹیکر نے دوست کو کیا پیغام بھیجا؟ ڈاکٹر نے اداکار کے آخری لمحات کی تفصیلات بتا دیں
واضح رہے کہ تنوشری دتہ نے 2018 میں می ٹو مہم کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ 2008 میں فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کی شوٹنگ کے موقع پر نانا پاٹیکر نے ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا تھا۔ ان الزامات نے بھارتی فلم انڈسٹری میں جنسی ہراسانی سے متعلق ایک بڑی بحث کو جنم دیا تھا۔
دوسری جانب نانا پاٹیکر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹا قرار دے چکے تھے۔














