چلی کی آلما رصدگاہ میں نئی ٹیکنالوجی متعارف، ستاروں اور سیاروں کی تشکیل کے راز جاننے میں مدد ملے گی

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چلی کے صحرائے اٹاکاما میں قائم دنیا کی جدید ترین ریڈیو رصدگاہوں میں سے ایک، آلما نے سرد گیس اور گردوغبار سے خارج ہونے والے سگنلز کا پتا لگانے کے لیے انتہائی حساس نئے آلات متعارف کرا دیے ہیں۔

اس ٹیکنالوجی سے سائنس دانوں کو ستاروں، سیاروں اور دور دراز کہکشاؤں کی تشکیل کے ابتدائی مراحل کا زیادہ تفصیل سے مطالعہ کرنے میں مدد ملے گی۔

اٹاکاما لارج ملی میٹر/ سب ملی میٹر اَرے (آلما) نے اپنے نئے ریسیورز کے ذریعے مشاہدات کے 13ویں دور کا آغاز کیا ہے، جو 30 ستمبر 2027 تک جاری رہے گا۔

پہلی مرتبہ سائنس دان اس مرحلے میں بینڈ 2 ریسیورز کو معمول کے تحقیقی مشاہدات کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ یہ آلات 67 سے 116 گیگا ہرٹز کی فریکوئنسی پر کام کرتے ہیں اور خلائی گیس کے ان بادلوں کا سراغ لگانے میں مدد دیتے ہیں جہاں ستاروں کی پیدائش کا عمل شروع ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے سائنسدانوں نے ممکنہ 9ویں سیارے کا سراغ لگا لیا

آلما کے سائنس دان جان کارپنٹر کے مطابق نئے آلات کی ایک اہم خصوصیت بھاری ہائیڈروجن پر مشتمل مالیکیولز سے خارج ہونے والے سگنلز کا پتا لگانا ہے۔ یہ مالیکیولز بین النجمی بادلوں کے انتہائی سرد اور کثیف حصوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔

ان کے مطالعے سے سائنس دان ستاروں کی پیدائش سے پہلے کے حالات اور ان علاقوں میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ستارے گیس اور گردوغبار کے بادلوں سے بنتے ہیں، جبکہ نوجوان ستاروں کے گرد بننے والی گرد کی قرصیں آگے چل کر سیاروں کی تشکیل کے لیے ماحول فراہم کرتی ہیں۔

ماہرِ فلکیات لوکاس سیزا کے مطابق بینڈ 2 کی مدد سے 2.6 سے 4.5 ملی میٹر طولِ موج پر خارج ہونے والی شعاعوں کا مطالعہ ممکن ہوگا، جس سے سیاروں کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے گرد کے ذرات کے حجم اور تقسیم کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ آلما کی 50 سے زیادہ اینٹینا پر مشتمل تنصیب انفرادی دوربینوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تفصیلی تصاویر حاصل کر سکتی ہے، کیونکہ اس کے اینٹینا کو ایک دوسرے سے 16 کلومیٹر تک کے فاصلے پر رکھا جا سکتا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی دور دراز کہکشاؤں میں گیس کا مطالعہ کرنے اور کائنات میں ستاروں کی تشکیل کے ارتقا کو سمجھنے کے امکانات بھی بڑھائے گی۔

یہ بھی پڑھیے تاریخ میں پہلی بار کسی دوسرے سیارے سے ریڈیو سگنل موصول، مقناطیسی میدان کا راز کھل گیا

رصدگاہ کے 13ویں تحقیقی دور کے لیے ماہرین نے ریکارڈ 1,839 تحقیقی تجاویز جمع کرائیں، جن میں 37,471 گھنٹے کے مشاہدات کی درخواست کی گئی، جبکہ دستیاب وقت سے تقریباً 8.7 گنا زیادہ وقت طلب کیا گیا تھا۔ ان میں سے 229 تجاویز کو اعلیٰ ترین ترجیح دی گئی۔ ماہرین کے مطابق محدود مشاہداتی وقت کے باعث تمام منصوبوں کو موقع دینا ممکن نہیں، تاہم آلما کے حاصل کردہ اعداد و شمار بالآخر عام کر دیے جاتے ہیں تاکہ دنیا بھر کے سائنس دان انہیں اپنی تحقیق کے لیے استعمال کر سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp