امریکی محکمہ خارجہ نے ایران سے پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر ممبئی کی 2 کمپنیوں اور ان سے وابستہ 5 بھارتی شہریوں کے خلاف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ واشنگٹن کے مطابق ان اداروں کے ذریعے ایرانی حکومت کو لاکھوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی، جس سے اس کے اہم مالی وسائل کو تقویت ملی۔
امریکی محکمہ خارجہ کی کارروائی کا ہدف ایس ایس پی ایل سلوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ (SSPL Solutions Private Limited) اور سمندرا میرین سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ (Samudra Marine Services Private Limited) ہیں۔
امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کمپنیاں ایران سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں سہولت فراہم کر رہی تھیں۔ ایس ایس پی ایل سلوشنز سے وابستہ دھوانی وورا اور نسرگ وورا، جبکہ سمندرا میرین سروسز سے تعلق رکھنے والے کیتن کوچیکر، بھوپندرسنگھ ساہو اور ہری شیام ہری ہرن چنداکاٹل کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے روسی تیل کی خریداری پر ٹرمپ کا غصہ، نریندر مودی معاشی و سفارتی بند گلی میں پھنس گئے
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ایران سے حاصل ہونے والی پیٹرولیم، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت کے خلاف وسیع تر کارروائی کا حصہ ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر 10 اداروں، 6 افراد اور 5 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی مصنوعات کے خریداروں اور فروخت کنندگان دونوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات ایران کے خلاف امریکی مہم ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے بھی ایران کی آمدنی محدود کرنے کے لیے 17 اداروں اور ان سے وابستہ خفیہ بحری بیڑے کے جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکا نے ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کے ان مالی وسائل کو روکنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا جنہیں وہ خطے میں جنگی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ تاہم، امریکی حکام نے سمندرا میرین سروسز کو موجودہ کاروباری معاملات سمیٹنے کے لیے 23 اکتوبر تک عارضی اجازت بھی دی ہے، تاکہ کمپنی نئی پابندیوں کے مکمل نفاذ سے قبل اپنے جاری لین دین ختم کر سکے۔














