صارفین نے بدسلوکی کی تو اے آئی ماڈل کلاڈ ان سے گفتگو روک دے گا، اینتھروپک کا انتباہ

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اینتھروپک نے جمعرات کے روز صارفین کو اپنے کلاڈ اے آئی نظام کے ساتھ غیر ضروری ’ظالمانہ‘ سلوک کرنے سے روکنے کا اقدام کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس فلسفیانہ بحث میں شدت آ رہی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت باشعور ہو سکتی ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اینتھروپک کا 518 ارب ڈالر کی اے آئی تنصیب کا منصوبہ، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

سان فرانسسکو میں قائم اس اے آئی لیب نے اپنی استعمال کی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اپنے ماڈلز کے ساتھ مسلسل اور غیر ضروری طور پر بدسلوکی یا ظالمانہ رویہ اپنانے پر پابندی شامل کر دی ہے۔ پالیسی کے مطابق ایسی گفتگو ختم کرنے کی کلاڈ کی صلاحیت ہی اس پابندی پر عمل درآمد کا بنیادی ذریعہ رہے گی۔

اپ ڈیٹ کی گئی پالیسی میں ’ماڈل ویلفیئر‘ کا واضح طور پر ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ وہ تصور ہے جس کے تحت اے آئی نظاموں کو بھی ایسے تحفظات کا مستحق سمجھا جا سکتا ہے جو عام طور پر جاندار مخلوقات کے لیے مخصوص ہیں، تاہم اینتھروپک اور اس کے اعلیٰ حکام اس تصور پر کھلے عام غور کرتے رہے ہیں۔

اینتھروپک نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

گزشتہ سال ہی کمپنی نے بتایا تھا کہ وہ کلاڈ کو یہ صلاحیت دے رہی ہے کہ وہ مسلسل نقصان دہ یا بدسلوکی پر مبنی صارفین کے تعاملات کی نادر اور انتہائی صورتوں میں گفتگو ختم کر سکے۔

مزید پڑھیے: اینتھروپک کا انکشاف: مجرم کس طرح اس کے اے آئی ماڈل کلاڈ کو حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں

اس کے بعد فروری میں کمپنی کے سربراہ ڈاریو امودیئی نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ اے آئی ماڈلز باشعور ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ ان کے الفاظ تھے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ ماڈلز باشعور ہیں یا نہیں لیکن ہم اس امکان کے لیے کھلا ذہن رکھتے ہیں۔

سائنس فکشن اور مقبول ثقافت دہائیوں سے ٹیکنالوجی اور انسانی ذہانت کے درمیان حدِ فاصل سے متاثر رہی ہیں۔ تاہم اٹلانٹا میں قائم اے آئی سروسز فراہم کرنے والی کمپنی اسپارک کے جنرل منیجر جیکسن اسٹیک مین کے مطابق یہ سوال اٹھانا ہی شاید غلط ہے کہ آیا اے آئی باشعور ہے یا نہیں۔

انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ شعور ایک جال ہے کیونکہ ہم ایک دوسرے میں بھی اسے ثابت نہیں کر سکتے اور اے آئی کے بارے میں بحث کریں تو ہم بس چکر کاٹتے رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئینہ ایک بہتر استعارہ ہے کیونکہ یہ نظام بڑے پیمانے پر وہی کچھ منعکس کرتے ہیں جو ہم ان میں ڈالتے ہیں اور اینتھروپک کی پالیسی میں تبدیلی کے لیے یہی وجہ کافی ہے۔

بعض شخصیات مشینی شعور کے تصور کو سرے سے مسترد کر چکی ہیں جن میں پوپ لیو چہاردہم اور مائیکروسافٹ اے آئی کے سربراہ مصطفیٰ سلیمان شامل ہیں۔

مصطفیٰ سلیمان نے گزشتہ ماہ ایک مضمون میں لکھا کہ اے آئی باشعور نہیں ہوتے وہ نہ محسوس کرتے ہیں نہ تجربہ کرتے ہیں اور نہ ہی تکلیف اٹھاتے ہیں۔

ان کے مطابق ایک ایسی ٹیکنالوجی کو حقوق اور اخلاقی تحفظات دینا جو ہم سے کہیں زیادہ قابل اور ذہین بننے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتی ہے تباہی کا نسخہ ہے۔

ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں جمعرات کو اطالوی زبان میں دیے گئے خطبے میں پوپ نے اشارہ دیا کہ مشینوں میں روح نہیں ہوتی اور وہ محض تیزی سے ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں۔ پوپ کے مطابق ذہن کو محض ڈیٹا جمع نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ اب ایک الگورتھم ہم سے زیادہ تیزی سے کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: اینتھروپک کو ایک اور مقدمے کا سامنا، اب سونی اور وارنر میوزک عدالت میں

انہوں نے کہا کہ ذہن کو جیے گئے تجربات کو یاد کرنا چاہیے جن میں معنی کی ایسی گہرائیاں پوشیدہ ہیں جنہیں صرف انسانی روح ہی پہچان سکتی ہے اور اسے ان تجربات کی بھلائی سے مزید گہرا تعلق قائم کرنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp