مشیرِ وزیراعظم سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے عدم تعاون کے باعث دہشتگردی کے مکمل خاتمے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، پی ٹی آئی بھارت اور اسرائیل نواز افغان دہشتگردوں سے مذاکرات چاہتی ہے لیکن ریاست دشمنوں سے بات چیت کے بجائے اب اپنا فیصلہ کن کردار خود ادا کرے گی۔
وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ملکی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال، خیبر پختونخوا حکومت کے رویے اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی حالیہ ملاقاتوں پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردی جیسی قومی نوعیت کی جنگ سیاسی مصلحتوں کا شکار نہیں ہونی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان سے ملاقات اور اپوزیشن کا رویہ
سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب مولانا فضل الرحمان نے مذاکرات کے حوالے سے استفسار کیا تو ہم نے حکومت کا واضح مؤقف ان کے سامنے رکھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد کے پہنچنے سے قبل ہی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ٹیم مولانا فضل الرحمان سے مل چکی تھی۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق، مولانا فضل الرحمان کا یہی مؤقف تھا کہ ملک میں مذاکرات ہونے چاہییں اور ایشوز کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہیے۔
کے پی حکومت کا عدم تعاون اور پس پردہ محرکات
مشیرِ وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ سیاسی معاملات سیاسی جماعتوں کی سطح پر ہیں، لیکن جہاں تک دہشتگردی کا معاملہ ہے تو اس کے تانے بانے بھارت سے لے کر اسرائیل تک ملے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا خاتمہ ایک قومی کاز ہے جس کے لیے تمام صوبوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر آگے بڑھنا چاہیے لیکن پی ٹی آئی ان بھارت اور اسرائیل نواز افغان دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں تعاون کی بجائے مذاکرات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ڈرون حملے، فوجی آپریشن اور پروپیگنڈا
صوبائی حکومت کی جانب سے ڈرون حملوں کی مخالفت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کے پی حکومت کہہ رہی ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف ڈرون حملے نہ کیے جائیں، حالانکہ اس کا فیصلہ سیاسی نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ موقع پر موجود کمانڈنگ آفیسر نے کرنا ہوتا ہے، اس آپریشن پر بحث کرنا سیکیورٹی اداروں کا کام ہے، کوئی کارروائی کرنے کے لیے جرگہ تو نہیں بلایا جا سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ عسکری قیادت نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کی جامع پالیسی بنا رکھی ہے۔ پاکستان میں اس وقت انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں (آئی بی اوز) جاری ہیں جن میں ہمارے جوان اور معصوم شہری جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ لوگوں کو آئی ڈی پیز بنانے کی کوئی ریاستی پالیسی نہیں ہے، اس حوالے سے عوام میں مکمل طور پر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات اور گورنر راج کا امکان
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوگا، بلکہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ وفاقی کابینہ ہی کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:نئے صوبوں کی تشکیل کا کوئی بل یا ترمیم زیرِ غور نہیں، سندھ اسمبلی کی قرارداد اور تقاریر قبل از وقت ہیں، رانا ثنا اللہ
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کی جائے اور وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو ایک اور موقع دیا ہے۔
مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن سے کہا گیا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک متفقہ پالیسی بنائی جائے، اگر ہم متفق ہوں گے تو یہ جنگ لڑیں گے اور اگر نہیں تو نہیں لڑیں گے۔
لیکن اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔ رانا ثنا اللہ نے سوال اٹھایا کہ ہم ان کے ساتھ کس بات پر بات چیت کریں؟ وہ تو پاکستان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی دراصل ایک غیر ملکی جارحیت ہے جو دشمن ملک نے ہم پر مسلط کی ہے۔
ریاست کا آئندہ کا لائحہ عمل
رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ میرا خیال ہے کہ اب اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اولین خواہش یہی ہے کہ پی ٹی آئی والے پاکستان کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں، لیکن اگر وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے تو پھر ریاست کو خود یہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں:عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ میرٹ پر ہوا، پی ٹی آئی نے دیر کردی: رانا ثنا اللہ
آخر میں پی ٹی آئی کے موجودہ احتجاجی مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے مشیرِ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا مارچ اس وقت صرف خیبر پختونخوا کے اندر ہی گھوم رہا ہے، اور یہ سب کس کے کہنے پر ہو رہا ہے، یہ انہیں معلوم نہیں ہے۔














