امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نوبیل امن انعام 2026 نہ ملنے پر برہم ہوگئے اور انعام جنوبی افریقہ کی قانون دان ناوی پلے کو دیے جانے کے فیصلے کو شرمناک اور ناروے کے لیے ’نہ چُھٹنے والا داغ‘ قرار دے دیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ نے نیویارک کے شہر سیراکیوز میں ری پبلکن امیدواروں کی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں نوبیل امن انعام ملنا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے ناروے اور انعام دینے والوں کو بدنام کیا ہے۔
'The USA — represented by me as your PRES — should have received the NOBEL PEACE PRIZE' — Trump
'…but DIDN'T!'
'An INDELIBLE STAIN on the country of NORWAY'
'A DISGRACEFUL & EMBARRASSING DECISION' pic.twitter.com/zUv0KpWLQ6
— RT (@RT_com) October 10, 2026
ٹرمپ نے ناوی پلے کو ’ایسی شخصیت جسے کوئی نہیں جانتا‘ قرار دیتے ہوئے نوبیل کمیٹی پر تنقید کی اور کہا کہ انعام چند ایسے نظریاتی افراد کے ہاتھوں بدنام ہوچکا ہے جو جمہوریت اور تہذیب کے مخالف ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ناروے کے اس فیصلے کو نہیں بھولے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے متعدد جنگیں ختم کرانے میں کردار ادا کیا، تاہم ان کے بعض دعوؤں اور تنازعات کے حل میں ان کے کردار پر اختلاف کیا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی افریقہ کی ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کا اعتراف
واضح رہے کہ ناوی پلے کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور جنگی جرائم و نسل کشی پر جواب دہی کے لیے خدمات کے اعتراف میں 2026 کا نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی عدالتوں میں جج رہ چکی ہیں۔














