معروف ٹی وی اینکر اقرار الحسن کو لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اہلکار رات گئے گھر میں داخل ہوئے اور اس دوران توڑ پھوڑ کے علاوہ اہلِ خانہ کے موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار کے مطابق کارروائی کے دوران اہلکاروں کے ہمراہ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں جن کے بیجز پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) درج تھا۔
اقرار الحسن کو اغوا کر لیا گیا ہے رات کے تین بجے کے قریب گھر میں گھس کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پا مال کرتے ہوئے کیسے لے کر گئے ہیں سنیے اقرار الحسن کی بیوی کی زبانیں!!
باری باری سب کی باری! #BlackDayForDemocracy pic.twitter.com/Lf8HKHGz4G— Shumaila Mubeen 🇵🇰 (@SecretGirl_IK) October 12, 2026
فرح اقرار کا کہنا ہے کہ گھر کے تمام افراد رات کے وقت سو رہے تھے کہ اسی دوران نامعلوم افراد گھر کے مرکزی گیٹ اور دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے۔ ان کے مطابق اہلکار دروازے توڑتے ہوئے کمروں تک پہنچے، موبائل فونز اور آئی پیڈ اپنے ساتھ لے گئے۔ فرح اقرار نے دعویٰ کیا کہ ان سے بھی موبائل فون چھین لیا گیا۔
اہلیہ کے مطابق کارروائی کے دوران گھر میں نصب ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر (ڈی وی آر) اور سکیورٹی سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا گیا جس کے باعث واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ نہ رہنے کے خدشات پیدا ہوئے۔
دوسری جانب اقرار الحسن کی گرفتاری کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ متعدد صارفین نے مبینہ کارروائی کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کسی معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کرنا مقصود تھا تو باقاعدہ نوٹس دے کر بھی بلایا جا سکتا تھا، رات گئے اس انداز میں کارروائی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہ بھی پڑھیں: طلاق کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے؟ اقرار الحسن کی پہلی اور دوسری اہلیہ کی گفتگو نے نئی بحث چھیڑ دی
اقرار الحسن کی پہلی اہلیہ قرۃ العین نے کہا کہ ’رات دو بجے فیز 8 ہمارے گھر میں 5 سے 7 مرد اور 2 عورتیں زبردستی گھسیں اور میرے شوہر اقرار الحسن کو زبردستی اغوا کر کے دو گاڑیوں میں لے گئے۔ ڈی ایچ اے سیکیورٹی موجود تھی لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور 15 پر کال کرنے کے باوجود پولیس ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم تھانے گئے تو پولیس نے یہ کہہ کر رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا کہ ’وائی فائی نہیں آ رہا‘، انہوں نے مزید کہا کہ ’جو شخص پچھلے 20 سال سے پاکستان میں طاقتور اور بااثر لوگوں کو بے نقاب کرتا آ رہا ہے آج اسی کے گھر میں یہ سب ہوا اور اس کا معصوم بیٹا یہ سب دیکھ رہا ہے‘۔
First wife of Pakistan Awam Raj Tehreek founder and leader Iqrar ul Hassan has appealed to the authorities for her husband’s immediate release. pic.twitter.com/XfuZvyhfJx
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) October 12, 2026
اقرار الحسن کی اہلیہ قرۃ العین نے مریم نواز سے اپیل کی کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور انتظامیہ کو الرٹ کریں کہ جلد از جلد اقرار کو بازیاب کرایا جائے۔ کیونکہ آج ایک مشہور صحافی کے ساتھ ہوا ہے کل کسی بھی عام شہری کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں اور اقرار الحسن کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائیں۔














