وزیراعظم شہباز شریف نے رواں سال 31 دسمبر تک تمام پیداواری شعبوں میں سیلز ٹیکس کی مانیٹرنگ کا نظام مکمل طور پر فعال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمروں سے لیس خودکار نظام کی تنصیب میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس میں پیداواری شعبوں میں ٹیکس مانیٹرنگ سسٹم اور ملکی ٹیکس استعداد کے مقابلے میں وصولیوں کے فرق سے متعلق تفصیلی رپورٹس پیش کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کی سیلز ٹیکس کے رجسٹرڈ افراد کو دوبارہ بائیومیٹرک تصدیق کی ہدایت
وزیراعظم نے کہا کہ فیس لیس نظام کے تحت کیمروں کی مدد سے پیداواری عمل کی نگرانی مؤثر بنائی جا رہی ہے، صارفین سے ٹیکس وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے اپنی جیب میں رکھنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
انہوں نے پیداواری عمل کی نگرانی کے نظام کی تنصیب رضاکارانہ طور پر قبول کرنے والی صنعتوں کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو حکومتی اقدامات پر عمل درآمد میں تعاون کر رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی پیداواری سیکٹر کے تمام شعبوں میں سیلز ٹیکس کیلئے پیداوار کی نگرانی رواں برس کے اختتام تک مکمل کرنے کی ہدایت، پیداواری شعبے کا تفصیلی جائزہ لے کر استعداد کا تخمینہ پیش کرنے والی ٹیم کی پزیرائی کی.
وزیرِ اعظم نے کہا کہ فیس لیس نظام کے تحت کیمروں کی… pic.twitter.com/4q4eTDMdV6
— Prime Minister's Office (@PakPMO) October 12, 2026
وزیراعظم نے سیمنٹ کے شعبے میں پیداواری مانیٹرنگ سسٹم کی آڈٹ رپورٹ کو بھی سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اس نظام کی افادیت جانچنے کے لیے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی دیگر متعلقہ شعبوں میں بھی آڈٹ کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کی مکمل استعداد کے مطابق وصولیاں عوام کی حقیقی خدمت ہیں، ایف بی آر کی ٹرانسفارمیشن ٹیم نے ٹیکس کی ممکنہ استعداد اور حقیقی وصولیوں کے درمیان فرق پر جامع رپورٹ تیار کرکے قابلِ تحسین کام کیا ہے۔
چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں نظام نصب
اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں ٹیکس مانیٹرنگ سسٹم مکمل طور پر نصب کیا جا چکا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل، پیک شدہ پانی، جوس اور دودھ کے شعبوں میں اس کی تنصیب جاری ہے اور متعلقہ آلات کی خریداری مکمل ہو چکی ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اسٹیل، پولٹری اور ٹائروں کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 15 اکتوبر تک مکمل کرلی جائے گی، جبکہ چائے، گھریلو الیکٹرانکس، چمڑے، پیپر اینڈ بورڈ اور آئل و گھی کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 30 اکتوبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ان تمام پیداواری شعبوں میں مانیٹرنگ سسٹم رواں سال 31 دسمبر تک مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔
10 ٹیکسٹائل کمپنیوں کی رضاکارانہ شمولیت
اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں بعض صنعتوں کی جانب سے مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب پر مزاحمت سامنے آئی، تاہم نشاط ملز، الکرم ٹیکسٹائل، الکرم کاٹن ملز، جے کے اسپننگ ملز، سورتی انٹرپرائزز، انٹرلوپ لمیٹڈ، فیصل اسپننگ ملز، ابراہیم فائبرز لمیٹڈ، سیفائر ٹیکسٹائلز لمیٹڈ اور نشاط چونیاں نے حکومتی اقدامات کے تحت رضاکارانہ طور پر یہ نظام نصب کیا ہے۔
وزیراعظم نے ان صنعتی اداروں کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے قابلِ تحسین قرار دیا۔
3 سال میں 1300 ارب روپے اضافی ٹیکس وصولی
اجلاس میں ٹیکس وصولیوں اور ملکی ٹیکس استعداد کے درمیان فرق سے متعلق جائزہ رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں ملک کی مجموعی ٹیکس استعداد کا تخمینہ دیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران حکومتی اقدامات کے نتیجے میں 1300 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا، جو ٹیکس وصولیوں میں 40 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر کا 11 ماہ کا خسارہ 868 ارب روپے تک پہنچ گیا
حکام کے مطابق یہ اضافی وصولیاں ٹیکس قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے اور نفاذ کے اقدامات کے باعث ممکن ہوئیں۔
وزیراعظم نے ایف بی آر کی ٹرانسفارمیشن ٹیم کی شبانہ روز محنت اور جامع رپورٹ کی تیاری کو سراہا، اجلاس کے اختتام پر انہوں نے ٹیکس استعداد سے متعلق رپورٹ تیار اور پیش کرنے والے افراد میں خصوصی طور پر تعریفی شیلڈز بھی تقسیم کیں۔













