رپورٹ: عارف ملک(لاہور)، وقاص خان(کراچی)، غالب نہاد( کوئٹہ)
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد توقع تھی کہ ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آئے گا، تاہم سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کوئی نمایاں احتجاج نہ ہو سکا۔ قیادت کی عدم موجودگی، مقدمات اور گرفتاریوں کے خوف اور تنظیمی کمزوری کو اس خاموشی کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔
کراچی میں پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان باہر کیوں نہیں نکل پائے؟
ایک وقت تھا جب کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں کی مثالیں دی جاتی تھیں۔اس شہر نے عمران خان سمیت پی ٹی آئی کی قیادت کو ہمیشہ سر آنکھوں پر رکھا۔
یہاں تک کہ کراچی کے دورے کے دوران سہیل آفریدی کا بھرپور استقبال کیا گیا، اس کے باوجود وہ شہر، جہاں پی ٹی آئی ایک بڑی جماعت کے طور پر جانی جاتی تھی، سہیل آفریدی کی حکومت گئی تو پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں نے خاموشی اختیار کر لی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگنے اور اس کے بعد کی پیش رفت پر امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کراچی میں احتجاج ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج: صوبائی وزیر شفیع جان کارکنوں کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے، سیکیورٹی ہائی الرٹ
تاہم پی ٹی آئی سندھ کی قیادت کے مذمتی ویڈیو بیانات کے علاوہ کچھ بھی سامنے نہ آ سکا۔ اس کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف افراد سے رابطہ کیا گیا۔
کراچی اور سندھ میں لائحہ عمل
پاکستان تحریک انصاف کراچی کے سابق صدر راجہ اظہر نے وی نیوز کو بتایا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے۔
ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ اور پارٹی قیادت پر مظالم غیر آئینی اور جمہوریت کے منافی ہیں۔
راجہ اظہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کارکنان پرامن جدوجہد کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ مرکزی اور صوبائی قیادت کی جانب سے ہدایت ملتے ہی کراچی سمیت پورے سندھ میں غیر آئینی اقدامات کے خلاف پرامن احتجاجی تحاریک کا آغاز کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مرکزی قیادت کی کال آتے ہی کراچی اور سندھ بھر کے کارکنان سڑکوں پر ہوں گے۔ ان کے مطابق تمام عہدیدار اور کارکنان میدان میں موجود ہیں۔
گرفتاریوں کا خوف
سینیئر صحافی فیض اللہ خان کے مطابق لوگوں کو اب معلوم ہے کہ کارکنان گرفتاریوں سے خوفزدہ ہیں اور ان پر مقدمات بھی درج ہو رہے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ ان کی تنظیمی حالت برقرار نہیں ہے۔ یعنی ایک تنظیم موجود تو ہے، لیکن وہ مؤثر اور مضبوط نہیں ہے۔
چین آف کمانڈ کا فقدان
فیض اللہ خان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے کوئی کال نہیں دی۔ پشاور جیسے شہر کے بارے میں بھی انہوں نے یہی کہا تھا کہ سب پشاور پہنچیں، لیکن کیا ہوا؟
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت چین آف کمانڈ بالکل نہیں ہے، کیونکہ لیڈرشپ خود باہر نہیں نکل رہی۔ ایسے میں دوسروں سے کیا گلہ کیا جائے کہ لوگ کیسے جائیں گے؟ ان سب کو ایک سمت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ کسی مقام یا جگہ کا اعلان کریں کہ یہاں پہنچیں، ایسا تو نہیں ہے کہ لوگ نکلیں اور کاروبار یا کام دھندے رک جائیں۔
قیادت اور کارکنان میں دوری
فیض اللہ خان کے مطابق اس وقت پی ٹی آئی قیادت کا لوگوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ کارکنوں کے لیے کوئی ہدایات نہیں ہیں۔ مقدمات مسلسل ہو رہے ہیں اور لوگ روپوش ہو رہے ہیں اس وجہ سے کارکنان مشکل میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بیانات تو بالکل جاری کیے جا رہے ہیں، لیکن احتجاج کے لیے نہ کسی جگہ کو مختص کیا گیا ہے، نہ کوئی اعلان ہوا ہے اور نہ ہی یہ کہا گیا ہے کہ اتنے بجے ہم فلاں جگہ احتجاج کریں گے۔ ان کے بقول ہو سکتا ہے کہ آج شام تک کوئی بات سامنے آ جائے، لیکن مشکل لگتا ہے۔
پی ٹی آئی کے کراچی میں ہونے والے آخری احتجاج کی بات کی جائے تو 8 مقامات کا تعین ہونے کے باوجود لوگ 2 یا 3 مقامات پر ہی نظر آ سکے۔ اس کے علاوہ کوئی نہیں پہنچا۔
یہ ٹی 20 نہیں، ٹیسٹ میچ ہے
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شجاعت علی خان کا کہنا ہے کہ ہم ون ڈے یا ٹی 20 نہیں، بلکہ ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج سے قبل 9 مئی کے ملزمان کو سزائیں، مراد سعید کب منظر عام پر آرہے ہیں؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری سینیئر قیادت اس وقت خیبر پختونخوا میں ہے۔ رہنمائی کے لیے جو قیادت یہاں موجود ہے، وہ اعلیٰ قیادت کے احکامات کا انتظار کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں گزشتہ روز کارکنان گرفتار ہوئے ہیں اور اس وقت ہم ان کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
کراچی میں دفعہ 144 نافذ
دوسری جانب کمشنر کراچی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق شہر بھر میں 20 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق شہر میں کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس، ریلیوں، مظاہروں اور دھرنوں پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔
5 سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔ یہ اقدام امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔
کے پی میں گورنر راج کے بعد بلوچستان میں تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کہاں کھو گئی؟
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کے بجائے تحریک انصاف کی خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی ریلیاں نہ نکل سکیں۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے پر صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد ملک میں سیاسی ردعمل سامنے آنے کی توقع کی جا رہی تھی۔ تاہم بلوچستان سمیت متعدد علاقوں میں تحریک انصاف کی جانب سے کوئی نمایاں احتجاج ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
گورنر راج کے بعد بعض علاقوں میں یومِ نجات منایا گیا، ریلیاں نکالی گئیں اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے سڑکوں پر نکلنے یا بھرپور احتجاجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔
صوبائی قیادت سے رابطہ نہ ہو سکا
بلوچستان میں صورتحال مزید دلچسپ دکھائی دی۔ وہاں تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کی جانب سے نہ کوئی احتجاجی ریلی نکالی گئی اور نہ ہی کسی بڑے مظاہرے کا اعلان سامنے آیا۔
مزید پڑھیں:گورنر راج مختصر مدت کے لیے نہیں، خیبرپختونخوا میں بیوروکریسی کی بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ
وی نیوز نے جب پارٹی کے صوبائی رہنماؤں سے رابطے کی کوشش کی تو متعدد رہنماؤں کے موبائل فون بند ملے۔ جن رہنماؤں کے نمبر فعال تھے، ان کی جانب سے رابطے کا جواب نہیں دیا گیا۔
محدود سیاسی اثر و رسوخ اور تنظیمی تقسیم
بلوچستان میں تحریک انصاف کو پہلے ہی دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں محدود سیاسی اثر و رسوخ کا سامنا رہا ہے۔
صوبے میں پارٹی کی تنظیمی صورتحال اور مختلف دھڑوں میں تقسیم بھی اس کی سیاسی سرگرمیوں پر سوالات اٹھاتی رہی ہے۔
ایسے میں گورنر راج جیسے اہم سیاسی معاملے پر خاموشی نے پارٹی کی تنظیمی صلاحیت اور عوام کو متحرک کرنے کی قوت پر بحث کو جنم دیا ہے۔
اتحادی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی بھی خاموش
دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی طرف سے بھی بلوچستان میں کوئی نمایاں احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا گیا۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کوئٹہ اور صوبے کے پشتون اکثریتی علاقوں میں سیاسی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ اس لیے اس کی جانب سے احتجاج نہ ہونا بھی سیاسی حلقوں میں توجہ کا باعث بن سکتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا مؤقف
تجزیہ نگاروں کا مؤقف ہے کہ گورنر راج کے معاملے پر تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی خاموشی کو محض احتجاج نہ ہونے تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
ان کے مطابق یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا جماعتیں سیاسی حکمت عملی کے تحت خاموش ہیں یا تنظیمی کمزوری اور باہمی اختلافات انہیں متحرک ہونے سے روک رہے ہیں۔
تاہم کسی احتجاج کا نہ ہونا بذاتِ خود عوامی حمایت میں کمی کا حتمی ثبوت نہیں۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ تحریک انصاف اور اس کے اتحادی آئندہ دنوں میں مشترکہ حکمت عملی بناتے ہیں یا گورنر راج کے خلاف سیاسی ردعمل محدود بیانات تک رہ جاتا ہے۔
پنجاب میں لبرٹی چوک پر پی ٹی آئی کی احتجاجی کال مکمل طور پر ناکام رہی؟
صوبہ پنجاب میں لاہور کے معروف لبرٹی چوک پر پاکستان تحریک انصاف نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے حوالے سے احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ تاہم مقررہ وقت پر چوک مکمل طور پر خالی رہا۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور میں سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس: صوبے میں پائیدار امن کی بحالی اولین ترجیح ہے، گورنر فیصل کریم کنڈی
پارٹی کی جانب سے جاری کی گئی کال کے باوجود نہ تو مرکزی قیادت کے کسی نمایاں رہنما نے شرکت کی اور نہ ہی صوبائی قیادت کا کوئی اہم چہرہ موقع پر نظر آیا۔ کارکنان بھی بڑی تعداد میں وہاں پہنچنے میں ناکام رہے۔
عام دن کی طرح ٹریفک، گاڑیاں اور روزمرہ سرگرمیاں جاری رہیں، جبکہ احتجاجی مظاہرے کی کوئی عملی صورت نظر نہیں آئی۔
لاہور کے سینیئر رہنما روپوش
پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب سے پارٹی کا لانگ مارچ شروع ہوا ہے، لاہور کے سینیئر رہنما روپوش ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر بھی روپوش ہیں۔
ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے آغاز کے بعد لاہور میں پارٹی کے اہم عہدیداران اور سینیئر قیادت کے منظر عام پر نہ آنے کی وجہ حکومت کی جانب سے بڑھتی سختیاں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں کو لیڈ کرنے کے لیے لیڈران نہیں ہوں گے تو کارکن کیسے باہر نکلیں گے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف پارٹی متحد ہو کر ایک بیانیہ بنائے گی اور جلد روپوش رہنما بھی سامنے آ جائیں گے۔
ذرائع نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے تنظیمی معاملات کی وجہ سے بھی آج کے احتجاج میں لوگ شرکت نہ کر سکے۔
سیاسی مبصرین کی رائے
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی موبلائزیشن اور کارکنان کی شرکت میں کمی نظر آ رہی ہے۔ گزشتہ ادوار میں لبرٹی چوک پر پاکستان تحریک انصاف بڑے اجتماعات کرتی ہوئی نظر آتی رہی ہے۔













