خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ان کی اولین ترجیح عوام کا تحفظ یقینی بنانا اور صوبے میں پائیدار امن بحال کرنا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال اور انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی قیادت نے پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود، مناسب معاوضے اور ان کے خاندانوں کے مستقبل کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
خصوصی سیکیورٹی اجلاس میں مشیر برائے امورِ داخلہ کفایت اللہ خان،قبائلی و داخلہ امور کے مشیر، کونسل آف ایڈوائزرز کے دیگر ارکان۔ چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید اور سینیئر پولیس و کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے حکام اور حساس اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی صورت حال اور دہشتگردی کے خلاف جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔
Chaired a high-level security meeting with Adviser on Home Affairs Kifayatullah Khan, @CSKPOfficial Dr Muhammad Fakhr Alam Irfan, IGP @KP_Police1 Zulfiqar Hameed and other senior officials to review the security situation and counterterrorism efforts in Khyber Pakhtunkhwa. Our police officers stand on the front lines of this fight, making immense sacrifices to protect our people. Their welfare, fair compensation and the future of their families must remain a priority. We are committed to strengthening the police and CTD and ensuring our personnel receive the support they deserve.
Khyber Pakhtunkhwa has sacrificed enough. Our priority is to protect our people and restore lasting peace.— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) October 12, 2026
اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ پولیس اہلکار دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اگلی صفوں میں کھڑے ہیں اور عوام کے تحفظ کے لیے بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان اہلکاروں کی فلاح و بہبود، منصفانہ معاوضے اور ان کے اہل خانہ کے مستقبل کو ہر صورت ترجیح دی جانی چاہیے۔
بیان کے مطابق پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مزید مضبوط بنانے اور اہلکاروں کو درکار معاونت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خیبرپختونخوا پہلے ہی بہت قربانیاں دے چکا ہے، اب اولین ترجیح عوام کا تحفظ یقینی بنانا اور صوبے میں پائیدار امن بحال کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کے حالات کیسے بہتر ہوں گے؟
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے بھر میں صورتحال پُرامن اور معمول کے مطابق رہی۔
اجلاس میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا، شرکا نے اداروں کی استعدادِ کار بڑھانے اور انہیں درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
اجلاس میں وطن کے لیے قربانیاں دینے والے شہدا اور ان کے اہلِ خانہ کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ اور ان کی کونسل قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی معاونت کے لیے ہر وقت دستیاب ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے انتشار سے دہشتگردی لوٹ آئی، قانون شکن مطلوب افراد کو ہر حال میں گرفتار کریں گے، طلال چوہدری
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوت اور پختہ عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے گی اور صوبے کے عوام سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
اجلاس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام خوارج اور ان کے سہولت کاروں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔














