’کاکروچ‘ تحریک کے پرچم تلے پوری نوجوان نسل سڑکوں پر نکل آئی، مودی سرکار بیک فٹ پر، عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کشِش راوت ہفتے کے روز احتجاج میں شرکت کی غرض سے نئی دہلی پہنچیں۔ انہوں نے اپنے اس سفر کے بارے میں اپنے والدین کو بھی خبر نہ ہونے دی۔

جب معاشیات کی یہ 22 سالہ  طالبہ بھارتی دارالحکومت پہنچی تو شہر کا منظرنامہ بالکل بدلا ہوا تھا۔ سڑکوں پر لوہے کی رکاوٹیں کھڑی تھیں اور پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سخت رویہ اختیار کیے ہوئے تھی۔کچھ نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، کچھ کو زبردستی بسوں میں دھکیلا جا رہا تھا اور باقیوں کو دوڑا دوڑا کر بھگایا جا رہا تھا۔ مظاہرین پولیس کے اس تشدد کی ویڈیو اپنے موبائل فونز میں محفوظ کر رہے تھے جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔

عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پولیس کی اس سخت کارروائی کا مقصد نوجوانوں کے اس غفیر کو جمع ہونے سے روکنا تھا جو ووٹر فہرستوں سے کروڑوں نام نکالے جانے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں یہ چھانٹی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ تاہم یہ جبر کشِش راوت کے قدم نہ روک سکا۔ وہ شام گئے تک پولیس کی پہنچ سے دور رہتے ہوئے سڑکوں پر ڈٹی رہیں۔

یہ بھی پڑھیے نئی دہلی میں دوبارہ احتجاج کا امکان، میٹرو اسٹیشنز بند، ٹریفک پر پابندیاں عائد

کشِش کا کہنا تھا ’ہم کہیں نہیں جا رہے۔ ہم بار بار واپس آئیں گے اور اپنی آواز ایوانوں تک پہنچا کر رہیں گے۔‘

بھارت کے نوجوانوں پر مشتمل ’کاکروچ‘ (Cockroach) تحریک کی قیادت میں جاری یہ احتجاج اس ماہ کے آغاز میں اس وقت شدید تر ہو گیا جب ووٹر فہرستوں میں نظرثانی کے عمل پر سوالات اٹھے۔

گزشتہ سال سے اب تک اس مہم کے تحت 13 کروڑ سے زائد نام فہرستوں سے حذف کیے جا چکے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس مہم کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں اور اس کا مقصد مزید لاکھوں شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنا ہے۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب، بھارتی الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ یہ تمام عمل دہرے اور غیر معتبر اندراجات کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے ان مظاہروں پر فی الحال کوئی ردِعمل نہیں دیا، تاہم ان کی پارٹی کے بعض رہنماؤں نے مظاہرین کو ’انارکسٹ‘ (افراتفری پھیلانے والے) قرار دیتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان نوجوانوں کو غیر ملکی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

یہ تنازع اب بھارتی جمہوریت کے بنیادی ستون یعنی ووٹ کے حق پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ گزشتہ 12 سال سے مودی دورِ حکومت میں پرورش پانے والی نئی نسل اپنی مایوسی کو ہندو قوم پرست حکومت کے لیے ایک منظم چیلنج میں بدل سکتی ہے یا نہیں۔

مودی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کشِش نے کہا ’میں انہیں کوئی نا قابلِ تسخیر شخصیت نہیں سمجھتی۔ وہ ہمارے منتخب کردہ نمائندے ہیں، اس لیے مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم ان سے سوال کرنے سے کیوں ڈریں؟‘

بھارتی جمہوری اداروں کا امتحان

نریندر مودی کے دورِ حکومت میں بھارت کے جمہوری ادارے شدید دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ حکومت نے انتظامی اختیارات پر گرفت مضبوط کی ہے، اختلافِ رائے کو کچلا ہے اور مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ صحافتی آزادی کی تنظیموں نے بھی آزاد میڈیا پر بڑھتے ہوئے دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تاہم حکومت ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ملکی ادارے پوری طرح فعال ہیں اور کارروائیاں صرف قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کی جاتی ہیں، نہ کہ اختلافِ رائے پر۔

یہ بھی پڑھیے بھارت: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھجیت ڈپکے دہلی ایئرپورٹ پر جہاز سے گرفتار

لیکن بہت سے بھارتی نوجوانوں کے لیے وہ ادارے اب بے اثر ہو چکے ہیں جن پر وہ اعتماد کرتے ہوئے بڑے ہوئے تھے۔ وہ ایک ایسے سیاسی کلچر کو دیکھ رہے ہیں جہاں اقتدار کو چیلنج کرنے کا نتیجہ نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔ ووٹر فہرستوں کے تنازع نے اس بے چینی کو ایک مشترکہ مقصد فراہم کر دیا ہے۔

رواں موسمِ گرما کے آغاز میں مظاہرین نے مودی کے وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا، جو کہ سڑکوں کے دباؤ کے نتیجے میں سیاسی تبدیلی کی ایک نایاب مثال تھی۔ اس کے بعد سے نوجوانوں کی یہ تحرک جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی طرز پر آگے بڑھ رہی ہے، جہاں جین زی (Gen Z) کے مظاہرین سیاسی اشرافیہ کو چیلنج کر رہے ہیں۔

19 سالہ طالبہ مایا ربیرو کے لیے ووٹر فہرستوں کا یہ تنازع اس جمہوری حق پر سوالیہ نشان بن گیا ہے جسے وہ اب تک ایک طے شدہ حقیقت سمجھتی تھیں۔

ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج میں اپنے دو دوستوں کے ساتھ شریک، عمرانیات (Sociology) کی طالبہ ربیرو نے بتایا کہ انہوں نے جمہوری عمل کا حصہ بننے کو اپنا حق اور ذمہ داری سمجھ کر ووٹ کے لیے اندراج کرایا تھا۔ لیکن جس طرح ووٹروں کے نام کاٹے جا رہے ہیں، اس سے انہیں خدشہ ہے کہ ان کا حقِ رائے دہی محفوظ نہیں رہا۔ اس صورتحال نے انتخابی عمل کی شفافیت کے لیے جدوجہد کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

ربیرو کا کہنا تھا ’جب ہم ووٹنگ کے ادارے کی بات کرتے ہیں تو یہ ایک اہم نظام ہے، لیکن اس نظام کو اب پاک اور شفاف بنانے کی شدید ضرورت ہے۔‘

پولیس تشدد نے غصے کو مزید ہوا دی

مظاہرین کے مطابق پولیس کی شدید کارروائی نے نوجوانوں کو سڑکوں پر آنے کی ایک اور وجہ فراہم کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرامن مظاہرے پر پولیس کا یہ ردِعمل جمہوری قدروں کے منافی اور ناگزیر حد سے زیادہ تھا۔

21 سالہ فلسفے کے طالب علم آرین کجانیا نے کہا کہ یہ تنازع بھارتی نوجوانوں کے اندر سیاسی نظام سے بڑھتی ہوئی بدظنی کا عکاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حکام اجتماع پر پابندیاں عائد کر دیں اور مظاہرین کو حراست میں لینا شروع کر دیں، تو نوجوانوں کے لیے آزادیِ اظہار کے حق کا استعمال دشوار ہو جاتا ہے۔

آرین نے بتایا ’لوگ دارالحکومت کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں اور مختلف شہروں سے اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں، لیکن ہمارا سیاسی نظام ہمیں دبانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔‘

اس تحریک کا دائرہ کار صرف سڑکوں پر موجود ہجوم تک محدود نہیں ہے۔ بیشتر مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق کسی خاص سیاسی جماعت یا گروہ سے نہیں ہے، بلکہ وہ مشترکہ قومی مسائل کی بنیاد پر متحد ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بھارت میں الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج روکنے کے لیے کریک ڈاؤن، 2 ہزار سے زائد افراد زیرِ حراست

ربیرو کے مطابق دوستوں کی باہمی گفتگو، گھروں میں ہونے والے مباحثے اور سوشل میڈیا کے تبادلوں نے ان کی ذاتی مایوسی کو ایک اجتماعی تحریک میں بدل دیا ہے۔

برسوں کی بے بسی کے بعد، اس احتجاج نے بھارتی نوجوانوں میں ایک نیا سیاسی شعور بیدار کیا ہے۔ اس تبدیلی کا اندازہ رواں سال کے آغاز میں ’کاکروچ‘ احتجاج کے دوران ہوا جب مظاہرین نے تمام تر پابندیاں  توڑتے ہوئے علانیہ طور پر مودی پر تنقید اور طنز کیا۔

ربیرو نے کہا ’مجھے یقین ہے کہ ہم اس موڑ پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہم اب ماضی سے کہیں زیادہ مضبوط اور باہمت ہو چکے ہیں۔‘

مودی کو چیلنج کرنا آسان نہیں

نریندر مودی جیسی مضبوط سیاسی شخصیت کو چیلنج کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ وہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے بھارتی سیاست پر حاوی ہیں اور ان کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کا انتخابی نیٹ ورک انتہائی مضبوط ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی اب تک مودی حکومت کے خلاف عوامی غصے کو کسی بڑے قومی چیلنج میں بدلنے میں ناکام رہی ہیں۔

نوجوانوں کا یہ احتجاج بھی فی الحال کسی منظم سیاسی متبادل کی شکل اختیار نہیں کر سکا، تاہم بہت سے نوجوانوں کے لیے حکومت سے سوال کرنے کی فضا قائم کرنا ہی اپنے آپ میں ایک بڑی جنگ بن چکا ہے۔ اور اس کی انہیں ذاتی قیمت بھی چکانی پڑ رہی ہے۔

کشِش راوت نے بتایا کہ سیاست اب ان کے گھر میں کشیدگی کا باعث بن چکی ہے۔ ان کے والدین کی رائے مودی کی حامی ٹی وی نشریات سے متاثر ہے، اور اس اختلافِ رائے کی وجہ سے بعض اوقات رشتہ داروں سے بات چیت بھی بند ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا’میں اب بھی ان سے بات کرنے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن ابھی تک مجھے اس میں کامیابی نہیں مل سکی۔‘

ربیرو کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی نوجوان اپنے اس غصے کو شفافیت اور جوابدہی کی ایک پائیدار تحریک میں ڈھال سکیں گے؟ ان کا ماننا ہے کہ ان مظاہروں نے نوجوانوں کو یہ احساس ضرور دلایا ہے کہ ان کی آواز کی اہمیت ہے۔

ربیرو نے بات ختم کرتے ہوئے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ ایک طویل عرصے بعد پہلی بار… مجھے اس بات پر دوبارہ یقین پیدا ہوا ہے کہ جمہوریت کیا کچھ کر سکتی ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp