بھارتی پولیس نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھجیت ڈپکے کو ہفتے کے روز نئی دہلی ایئرپورٹ پہنچنے پر جہاز سے ہی حراست میں لے لیا۔ ان کی تحریک نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر جنتر منتر میں احتجاج کی کال دے رکھی تھی۔
مزید پڑھیں:راجستھان میں اسکول کے معائنے کے لیے جانے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ ٹیم پر حملہ، بی جے پی پر الزام؟
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈپکے ممبئی سے دہلی پہنچے تھے، جہاں پولیس نے انہیں احتجاج منسوخ کرنے کو کہا۔ تحریک کے بیان کے مطابق اس کے 2 رہنما سورَو داس اور اشوتوش رنکا کو بھی دہلی پہنچنے پر حراست میں لیا گیا۔
Abhijeet Dipke, Ranka and Saurabh Das were detained on the plane by Delhi Police.
Do you think the Jantar Mantar 2.0 movement will be successful? https://t.co/eQAMrjqLXt
— Wallah Habebe (@Wallahhabebe) October 10, 2026
احتجاج سے قبل دہلی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ حکام نے مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس نے خبردار کیا تھا کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
احتجاج کی وجہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا متنازع معاملہ ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور ’کاکروچ‘ تحریک کا الزام ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں قریباً 13 کروڑ ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کیے گئے، جس سے انتخابی عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم بھارتی الیکشن کمیشن اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:بھارت کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا پارلیمنٹ کے قریب تھالیاں بجا کرانوکھا احتجاج
رائٹرز کے مطابق پولیس نے احتجاج روکنے کے لیے دارالحکومت میں بھاری نفری تعینات کی، جبکہ آمدورفت اور مواصلاتی سہولتوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔














