’آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘: سربراہ گوگل ڈیپ مائنڈ کی اے آئی سائبر حملوں میں شدت کی پیشگوئی

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل ڈیپ مائنڈ کے چیف ایگزیکٹو اور شریک بانی ڈیمس ہسابس نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ سائبر حملوں اور اے آئی ایجنٹس کے ذریعے کی جانے والی حالیہ ہیکنگ کے واقعات ایک خودکار دور کی ابتدائی جھلک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی جمہوری نظام کے لیے بھی خطرہ ثابت ہوسکتی ہے؟

انہوں نے زور دیا کہ اگر عالمی سطح پر سیکیورٹی اقدامات کو فوراً سخت نہ کیا گیا تو دنیا کو جلد ہی سنگین خطرات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اے آئی ماڈلز اور ایجنٹس کے غیر متوقع و سرکش رویوں، بشمول نیٹ ورک ہیکنگ اور اینتھروپک کے حالیہ انکشاف جس میں ایک خودکار اے آئی ماڈل نے پولس کو قتل کی جھوٹی اطلاع بھیجی نے محققین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور اس تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔

بین الاقوامی قوانین اور حفاظتی فریم ورک کی ضرورت

ڈیمس ہسابس نے بتایا کہ اے آئی کے نازک سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے بائیولوجی اور نیوکلیئر جیسے شعبوں سے تجربات اور نظریات حاصل کرنے پر کام جاری ہے تاہم آخر کار ایک بین الاقوامی ریگولیٹری فریم ورک قائم کرنا ہی پڑے گا۔

مزید پڑھیے: دودھ اور واشنگ مشین تک اے آئی سے زیادہ سخت قوانین کے تابع ہیں، صدر مائیکروسافٹ

ڈیمس کا کہنا تھا کہ یہ ہیکنگ واقعات ہمارے لیے ابتدائی الرٹ ہیں کہ فی الوقت یہ سسٹمز اتنے زیادہ طاقتور نہیں ہیں، اسی لیے فی الحال ہونے والے واقعات اتنے بڑے نہیں ہیں۔

آنے والے برسوں کے خطرات

انہوں نے کہا کہ اگر ہم بطور انڈسٹری، انفرادی کمپنیوں اور حکومتوں کی سطح پر ان سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے مزید کام نہیں کرتے تو اگلے ایک سے 2 سالوں میں یہ خطرات انتہائی شدید ہو سکتے ہیں۔

عالمی صنعت اور قانون سازی کا مؤقف

کانفرنس کے دوران مائیکروسافٹ کے صدر بریڈ اسمتھ نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کے غیر متوقع رویوں نے سال 2026 کو ایک لمحہ فکریہ بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتاری کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت اور مربوط اے آئی سیفٹی قوانین کی شدید ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: کیا اے آئی واقعی انسانوں کا خاتمہ کرسکتی ہے، اچانک دنیا میں خوف کیوں پھیل گیا؟

ڈیمس نے وضاحت کی کہ اگرچہ ایک بین الاقوامی ادارے کا قیام ناگزیر ہے لیکن اس کی کارروائیاں اور طریقہ کار ایسا ہونا چاہیے جو جدید ترقیافتہ ایجادات اور جدت میں رکاوٹ نہ بنے۔ ان کے بقول ایک ایسا متحرک سرٹیفیکیشن پروسیس بنانا ہوگا جو خطرات کے تناسب کے مطابق فوری طور پر خود کو تبدیل کر سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp