سندھ کے دیہی علاقوں میں عورت کی زندگی آج بھی انہی قدیم روایات، کٹھن حالات اور ان گنت ذمہ داریوں کا مجموعہ ہے جس میں اس کے لیے سہولیات کا تصور بھی ناپید ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین پر گھر کے ذہنی بوجھ کی ذمہ داری زیادہ کیوں، اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
ضلع میرپورخاص کے تاریخی شہر نوکوٹ کے قریب واقع گاؤں کی ایک خاتون کی روزمرہ زندگی اس حقیقت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
ان کا دن سورج نکلنے سے بہت پہلے شروع ہوتا ہے۔ ان کو پینے کا صاف پانی حاصل کرنے کے لیے شدید گرمی اور صحرائی راستوں پر کئی کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ پانی کا گھڑا سر پر اٹھا کر روزانہ کی یہ مشقت صرف ان کی اپنی ضرورت نہیں بلکہ پورے کنبے کی بقا سے جڑی روزمرہ کی ایک آزمائش ہے۔
پانی لانے کا یہ تھکا دینے والا مرحلہ طے کرنے کے بعد بھی اس خاتون کو آرام کا ایک لمحہ میسر نہیں آتا کیونکہ گھر کی چولہا چکی، صفائی ستھرائی اور اناج کی صفائی جیسے محنت طلب کام ان کے منتظر ہوتے ہیں۔
سندھ کی دیہی زندگی میں سب سے زیادہ مشکلات اور صحت کے مسائل انہی خواتین کو پیش آتے ہیں جو لکڑیوں کا دھواں برداشت کرتے ہوئے کچے چولہوں پر کھانا پکاتی ہیں اور کھیتوں سے لے کر گھر کے آنگن تک ہر کام میں بھرپور حصہ لیتی ہیں۔
سندھ کی یہ باہمت خواتین کسی شکوے کے بغیر صبح سے رات گئے تک خاموشی سے اپنے خاندان کا سہارا بنی ہوئی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ دور جدید میں بھی دیہی خواتین کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھ کر یہ کٹھن زندگی گزارنے پر کب تک مجبور رکھا جائے گا؟













