اوپن اے آئی کے انجینیئر پر خفیہ ریکارڈنگ کا سنگین الزام،کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

جمعرات 15 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کے ایک انجینیئر کو کمپنی کے دفتر میں اعلیٰ حکام کے اجلاس کے کمرے میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ڈیوائس ٹی وی کے پیچھے ٹوائلٹ پیپر میں چھپائی گئی تھی۔

امریکی محکمہ انصاف کے اوپن اے آئی کے سان فرانسسکو دفتر میں ایک ایسے کمرے میں ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کی گئی جہاں کمپنی کی تحقیق، مصنوعات اور کاروباری منصوبوں سے متعلق خفیہ امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘: سربراہ گوگل ڈیپ مائنڈ کی اے آئی سائبر حملوں میں شدت کی پیشگوئی

حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ ڈیوائس کو ٹی وی کے پچھلے حصے میں موجود یو ایس بی پورٹ سے منسلک کیا گیا تھا۔ کمپنی کے سیکیورٹی عملے نے 30 ستمبر کو یہ ڈیوائس دریافت کی جبکہ تفتیش کاروں کے مطابق اسے دو روز قبل نصب کیے جانے کا شبہ ہے۔

انجینیئر کو جولائی 2025 سے اوپن اے آئی میں بطور انجینیئر کام کر رہے تھے۔ انہیں 9 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 13 اکتوبر کو وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ریٹائرڈ افراد کا رجحان اے آئی چیٹ بوٹس کی جانب کیوں بڑھ رہا ہے؟

فوجداری شکایت کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کو ڈیوائس کی دریافت سے قبل کئی مرتبہ ایگزیکٹوز کے اجلاس کے کمرے کے قریب دیکھا گیا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس کمرے میں داخل ہونے یا وہاں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کی اجازت نہیں تھی۔

تفتیش کاروں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ملزم نے ایک پروڈکٹیوٹی ٹول کے ذریعے اوپن اے آئی کی عمارتوں، اجلاس کے کمروں، ان کی گنجائش اور اعلیٰ حکام کی میٹنگز کے شیڈول سے متعلق معلومات تلاش کیں۔

یہ بھی پڑھیں:  18 ارب ڈالر کے تصفیے کے بعد میٹا کی نئی اے آئی پروڈکٹس کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تجزیہ کار

استغاثہ کے مطابق، ان کی اہلیہ سے منسلک ایک چیٹ بوٹ اکاؤنٹ پر بھی ریکارڈنگ آلات کی تیاری اور انہیں چھپانے سے متعلق تکنیکی سوالات کیے گئے۔ ان سوالات میں مسلسل آڈیو ریکارڈنگ، وائی فائی کے ذریعے رابطے، دور سے آواز سننے اور میموری کارڈز میں ڈیٹا محفوظ کرنے سے متعلق معلومات شامل تھیں۔

حکام کے مطابق بعض سرچز میں ایسے تکنیکی شناختی نمبرز کا بھی ذکر تھا جن کا تعلق مبینہ طور پر دفتر سے ملنے والی ڈیوائس سے تھا۔ 5 اکتوبر کو نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج میں ملزم کو مبینہ طور پر اسی کمرے میں داخل ہوتے اور ٹی وی کے پیچھے اس جگہ کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا گیا جہاں پہلی ڈیوائس نصب تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے ہاتھوں انسانیت کے خاتمے کے کتنے فیصد امکانات ہیں، ماہرین کے اندازے

اسی روز کمپنی کے سیکیورٹی عملے کو ایک دوسرے کمرے میں ملزم کے چھوڑے ہوئے بیگ سے ایک اور ریکارڈنگ ڈیوائس ملی۔ فوجداری شکایت کے مطابق بیگ میں ان کا بٹوا اور شناختی دستاویزات بھی موجود تھیں۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ پہلی ڈیوائس میں خفیہ انداز میں محفوظ کیا گیا ڈیٹا موجود تھا تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا اس کے ذریعے کوئی گفتگو ریکارڈ بھی کی گئی تھی یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈرامے اے آئی سے لکھے جا رہے ہیں، سید محمد احمد کا چونکا دینے والا انکشاف

اوپن اے آئی نے بتایا کہ ڈیوائس ملنے کے بعد کمپنی نے ایف بی آئی کو اطلاع دی اور متعلقہ ملازم کی ملازمت ختم کردی۔ کمپنی کے مطابق واقعے کی تحقیقات اور مبینہ طور پر ذمہ دار شخص کی شناخت کے لیے اس کے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز سے بھی مدد لی گئی۔

کمپنی نے واضح کیا کہ فی الحال ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے ظاہر ہو کہ ملزم نے ماڈل ویٹس، سورس کوڈ یا صارفین کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی یا انہیں کمپنی سے باہر منتقل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بظاہر فیصلہ آپ کا لیکن پیچھے اے آئی کار فرما، نئی تحقیق نے خطرناک پہلو دکھا دیا

اوپن اے آئی نے مزید کہا کہ وہ ایف بی آئی کی جاری تحقیقات میں تعاون کر رہی ہے۔ دوسری جانب، استغاثہ نے تاحال مبینہ نگرانی کے محرکات کو عوامی طور پر واضح نہیں کیا۔

انجینیئر پر الیکٹرانک ڈیوائس کے ذریعے زبانی گفتگو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے یا اس کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید، ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے اور تین سال تک عدالتی نگرانی میں رہنے کی سزا ہوسکتی ہے۔

حکام کے مطابق ملزم وفاقی حراست میں ہیں اور ان کی حراست سے متعلق سماعت 19 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp