خیبرپختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سردار شاہجہاں یوسف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کی بڑی تعداد احتجاج کے لیے باہر نہ نکلی تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاست کا اصل چہرہ سامنے آگیا۔
ماضی کے احتجاجوں میں خیبرپختونخوا حکومت کے لوگ شریک ہوتے رہے، اسی بنیاد پر اس مرتبہ بھی 20 سے 40 لاکھ افراد کی اسلام آباد آمد کے دعوے کیے گئے تھے، تاہم حالیہ احتجاج میں لوگوں کی تعداد انتہائی کم رہی، اس مرتبہ سرکاری ملازمین کو احتجاج میں شامل ہونے سے روکنے کے باعث بھی صورت حال مختلف نظر آئی، عمران خان کے نام پر سیاست ہوتی رہی، صوبے کے عوامی مسائل، اور دہشتگردی کے خاتمے پر توجہ نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:پارلیمنٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی کثرت رائے سے توثیق کردی
وی ایکسکلوزیو میں گفتگو کرتے ہوئے سردار شاہجہان یوسف نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت صورت حال ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور پاک فوج کے جوان اپنے ہی علاقوں کے لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں اور شہادت کا رتبہ پاتے ہیں، لیکن صوبائی حکومت ان کے ساتھ کھڑی دکھائی نہیں دیتی اور نہ ہی شہید ہونے والے اہلکاروں کے حق میں مؤثر آواز اٹھاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جانیں دینے والے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے شہدا کے معاملے پر حکومتی رویہ انتہائی دکھ اور افسوس کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ماضی کے احتجاجوں میں خیبرپختونخوا حکومت کے افراد کی شرکت نمایاں رہی، جس کے باعث اس بار بھی بڑے پیمانے پر لوگوں کی آمد کی توقع ظاہر کی جارہی تھی۔ ان کے بقول، 20 سے 40 لاکھ افراد کو اسلام آباد لانے کے دعوے کیے گئے، لیکن عملی طور پر اتنی بڑی تعداد میں لوگ باہر نہیں نکلے۔ سردار شاہجہان یوسف نے اس صورت حال کو پی ٹی آئی کی سیاست اور عوامی حمایت کے حوالے سے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ احتجاج میں سرکاری ملازمین کی شرکت پر پابندی کے باعث بھی لوگوں کی تعداد کم رہی۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں امن کے قیام تک گورنر راج برقرار رہے گا، اختیار ولی
سردار شاہجہاں یوسف نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایسی حکومت رہی جس کی توجہ عوامی مسائل کے بجائے ایک شخصیت کے گرد مرکوز تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے بارہا تعلیم، صحت، دہشتگردی کے خاتمے، اصلاحات اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے معاملات اٹھائے گئے، لیکن حکومتی ارکان ان مسائل پر مطلوبہ توجہ دینے کے بجائے عمران خان کے معاملے کو ترجیح دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کو بہتر تعلیمی اور طبی سہولتیں فراہم کرنا، امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عوام کے مسائل حل کرنا ہے۔ ان کے مطابق، خیبرپختونخوا میں ان شعبوں پر سنجیدہ اور نتیجہ خیز توجہ دینے کی ضرورت تھی، تاہم حکومت کی ترجیحات میں عوامی فلاح و بہبود کے معاملات پیچھے رہ گئے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
کے پی کے اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر نے صوبے کو ملنے والے اضافی مالی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر شکر گزار ہیں کہ متعلقہ فورم کی جانب سے خیبرپختونخوا کو ایک فیصد اضافی حصے کی رقم فراہم کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں میں متعدد بار یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ وفاق کے ساتھ مل کر صوبے کے لیے مزید وسائل حاصل کیے جائیں گے تاکہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب فنڈز دستیاب ہوسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مارچ سے گورنر راج تک: سہیل آفریدی نے خود کو بند گلی میں کیسے دھکیلا؟
سردار شاہجہاں یوسف نے دعویٰ کیا کہ صوبے کو اضافی طور پر ملنے والے تقریباً 700 ارب روپے کے باوجود پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آئے۔ ان کے مطابق، نہ مطلوبہ انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا اور نہ ہی سیکیورٹی کے نظام میں ایسی بہتری دکھائی دی جس سے صوبے کے عوام کو واضح فرق محسوس ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اضافی وسائل کا مقصد عوامی مسائل کا حل، امن و امان کا قیام اور متعلقہ اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاک فوج کے اہلکار مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ یہ اہلکار اپنے ہی علاقوں میں لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں، لیکن اگر حکومت ان کی قربانیوں کو تسلیم نہ کرے اور شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی نہ ہو تو یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے۔
سردار شاہجہاں یوسف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کا قیام، دہشتگردی کا خاتمہ، پولیس کی استعدادِ کار میں اضافہ اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی صوبائی حکومت کی اہم ذمہ داریاں ہیں۔ ان کے بقول، صوبے کو ملنے والے اضافی مالی وسائل کو ان مقاصد کے حصول کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے تھا، تاکہ عوام کو بہتر سیکیورٹی اور ترقیاتی سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر پشاور کے شہریوں اور تاجروں کا دو ٹوک ردعمل
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی اسمبلی میں ان مسائل کی نشاندہی کا مقصد حکومت کو عوامی ضروریات کی طرف متوجہ کرنا تھا، لیکن ان کے مطابق حکومتی ترجیحات میں بنیادی مسائل کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کے صوبے کے عوام مستحق تھے۔
مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ احتجاجوں میں عوام کی شرکت کے دعووں اور عملی طور پر سامنے آنے والی صورت حال میں فرق واضح ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو سیاسی نعروں کے بجائے تعلیم، صحت، ترقی، امن و امان اور دہشتگردی سے نجات جیسے بنیادی مسائل کے حل کی ضرورت ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہدا کے خاندانوں کی حمایت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔












