چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں زبردستی یہودی بستیاں قائم کرنے کا عمل روکے اور اس حوالے سے کیے گئے اقدامات واپس لے۔
انہوں نے یہ بات آذربائیجان میں ایک کانفرنس کے موقع پر اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کے دوران کہی۔
وانگ یی کے مطابق فلسطینی مسئلہ رواں صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی ہے۔ چین طویل عرصے سے فلسطینیوں کے حق کی حمایت کرتا آیا ہے اور 2 ریاستی حل کو تنازع کے خاتمے کی درست سمت قرار دیتا ہے۔
بیجنگ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں ثالثی کے لیے بھی سرگرم ہے۔ چین نے 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کیا، جبکہ رواں سال ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے دوران پاکستان کے ساتھ مل کر جنگ بندی کی کوششوں میں بھی شریک رہا۔
یہ بھی پڑھیے چین کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم، دیر پا امن کے لیے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت فوری ترجیح غزہ تک امداد کی بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنانا اور انسانی بحران کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کے ساتھ مل کر فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور تنازع کے سیاسی حل کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی بحران کی شدت کم کرنے کے لیے امدادی راستے مکمل طور پر کھولنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کے ساتھ پہلے سے کیے گئے اقدامات واپس لینے کے لیے بھی قدم اٹھائے
وانگ یی نے کہا کہ فلسطینی مسئلہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی ہے اور دو ریاستی حل اس کے تصفیے کا درست راستہ ہے۔ ان کے مطابق چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر تمام فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور تنازع کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں، دونوں کو امن کے ساتھ رہنے اور اپنی آزاد ریاستیں قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ میں فلسطین کی مستقل رکنیت کی حمایت کرتے ہیں، چینی صدر شی جنگ پنگ
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود فلسطینی شہری اب بھی اسرائیلی حملوں، نقل مکانی اور خوراک کی قلت جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
اکتوبر 2025 میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد ایک سال کے دوران اسرائیلی حملوں میں 1,400 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی غزہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کا پہلا مرحلہ تھی، تاہم اگلے مرحلے پر پیشرفت تعطل کا شکار ہے۔













