اسپیکر قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے گرفتار رکن قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔
پارلیمنٹ لاجز کو سب جیل قرار دینے کے نوٹیفیکیشن کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کا اہم اجلاس جاری ہوا جس کے لیے تمام انتظامی انتظامات مکمل کر لیے گئے ۔
اپوزیشن کا مطالبہ اور چیف وہپ کا خط
قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل اپوزیشن نے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا پُرزور مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے اسپیکر قومی اسمبلی کو باضابطہ خط لکھ کر 9 گرفتار ارکان کو اجلاس میں شرکت کے لیے ایوان میں لانے کی درخواست کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور طریقہ کار 2007 کے قاعدہ 108 کے تحت اپنے تفویض کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پنجاب پولیس کی تحویل میں موجود پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی ثنا اللہ خان مستی خیل اور داوڑ خان کنڈی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق یہ احکامات جاری اجلاس کے لیے دیے گئے ہیں تاکہ دونوں ارکان کی ایوان میں شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
پارلیمنٹ آمد اور ارکان کی صورتحال
پروڈکشن آرڈرز کے اجراء کے بعد پولیس پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل کو لے کر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچی، جس کے بعد وہ اپوزیشن کی لابی میں آ گئے۔ تاہم ایک اطلاعات یہ ہیں کہ داوڑ کنڈی کو ایوان کے اندر نہیں لایا جا سکا۔
اپوزیشن اور اسپیکر کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے گرفتار ایم این ایز کے لیے پارلیمنٹ لاجز کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔
اس نوٹیفیکیشن کے تحت اجلاس جاری رہنے تک اراکین اسمبلی پارلیمنٹ لاجز ہی میں مقیم رہیں گے۔
مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، پی ٹی آئی قیادت نے کوئی احتجاج یا مزاحمت کیوں نہ کی؟
احکامات کے مطابق دونوں ارکان کو ہر اجلاس کے آغاز پر پارلیمنٹ ہاؤس میں سارجنٹ ایٹ آرمز کے سامنے پیش کیا جائے گا جبکہ اجلاس کا وقت ختم ہوتے ہی ارکان کو واپس متعلقہ حکام کی تحویل میں بھیج دیا جائے گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی کے ان احکامات پر من و من عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے نقول متعلقہ حکام کو ارسال کر دی ہیں۔
یہ نقول سیکریٹری وزارت داخلہ اسلام آباد، چیف سیکریٹری پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب، ایڈیشنل ہوم سیکریٹری پنجاب، چیف کمشنر اسلام آباد، انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد اور سارجنٹ ایٹ آرمز قومی اسمبلی کو بھیج دی گئی ہیں تاکہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔











