نسیم شاہ کی قومی ٹیم میں واپسی: قومی فاسٹ باؤلر نے انجریز سے کیا سبق سیکھا؟

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پچھلے ہفتے سری لنکا کے خلاف پہلے ٹی 20 بین الاقوامی میچ میں جب نسیم شاہ دوبارہ میدان میں اترے تو گیند ان کے ہاتھ سے اسی پرانے اور خطرناک انداز میں نکل رہی تھی۔

پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کی وہی تاریخی فضا جہاں کبھی 16 سالہ لڑکے نے کرکٹ دنیا میں قدم رکھا تھا، ایک بار پھر ان کے خیرمقدم کے لیے گونج اٹھی۔

7 ماہ قبل انجری کے باعث وہ کھیل سے دور ہو گئے تھے، لیکن واپسی پر انہوں نے 4 اوورز میں 36 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ پہلے ہی اوور میں وکٹ حاصل کرنا اور 145 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باؤلنگ کرنا اس بات کا ثبوت تھا کہ ان میں وہ پرانی رمق اب بھی باقی ہے۔

ریکارڈز اور اب تک کا سفر

نسیم شاہ کی عمر اب 24 سال ہونے میں صرف 3 ماہ باقی ہیں اور وہ 93 بین الاقوامی میچوں میں 155 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ: 35.13 کی اوسط سے 60 وکٹیں۔

ون ڈے کرکٹ: 25.91 کی بہترین اوسط اور 28.3 کے اسٹرائیک ریٹ سے 60 وکٹیں۔

پی سی بی ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے نسیم نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ میری بہترین کرکٹ ابھی آنا باقی ہے۔ میں نے اب تک جتنی کرکٹ کھیلی ہے، خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ، اس میں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھ میں کچھ کمیاں تھیں۔‘

یہ بھی پڑھیے پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

لوئر دیر کے گاؤں مایار سے تعلق رکھنے والے نسیم شاہ نے نومبر 2019ء میں برسبین میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔ 3 ماہ بعد ہی انہوں نے راولپنڈی کے میدان میں بنگلہ دیش کے خلاف ہیٹ ٹرک کر کے 16 سال 359 دن کی عمر میں دنیا کے کم عمر ترین ہیٹ ٹرک کرنے والے ٹیسٹ باؤلر کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ انہوں نے نیدرلینڈز اور نیوزی لینڈ کے خلاف مسلسل 2 ون ڈے میچوں میں 5، 5 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ بھی انجام دیا تھا۔

انجریز کا تسلسل اور ری ہیب کا تلخ تجربہ

جہاں نسیم شاہ کی تیز رفتاری نے سب کو متاثر کیا، وہیں ان کے جسم نے بارہا ان کا ساتھ چھوڑا۔ کیریئر کے آغاز میں کمر کی تکالیف کی وجہ سے وہ ایک سال سے زائد عرصے تک کرکٹ سے دور رہے۔ اس کے بعد کندھے کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

سب سے بڑا نقصان انہیں 2023ء کے ایشیا کپ کے دوران بھارت کے خلاف میچ میں پہنچا، جہاں کندھے کے مسل (ٹینڈن) کی سرجری کے باعث وہ ون ڈے ورلڈ کپ 2023ء سے باہر ہو گئے تھے۔ رواں سال پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوران کمر کی نئی تکلیف کے باعث وہ مزید 7 ماہ تک قومی ٹیم سے باہر رہے۔

نسیم نے بتایا ’جب بھی آپ زخمی ہوتے ہیں، آپ دوبارہ صفر پر پہنچ جاتے ہیں۔ بعض اوقات آپ بھاگ بھی نہیں سکتے، میچ کھیلنا تو دور کی بات ہے۔ ایسے وقت میں ری ہیب کا پروگرام اور اپنے جسم کو سمجھنا سب سے اہم ہوتا ہے۔‘

تیز رفتاری سے پختگی کی جانب

تکلیف دہ بحالی کے دورانیے نے نسیم شاہ کو باؤلنگ کا ایک نیا زاویہ سکھایا۔ وہ کہتے ہیں ’جب آپ جوان ہوتے ہیں تو آپ کو صرف تیز باؤلنگ کرنا آتی ہے۔ لیکن اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ آپ کرنا کیا چاہ رہے ہیں۔ دنیا میں کئی باؤلرز 140 سے زیادہ کی رفتار سے باؤلنگ کرتے ہیں لیکن ان میں تسلسل نہیں ہوتا، ایک دو میچز کے بعد وہ دوبارہ زخمی ہو جاتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے مریم نواز کے خلاف ٹوئٹ، قومی کرکٹر نسیم شاہ پر 2 کروڑ روپے جرمانہ عائد

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کی 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر رنز بن رہے ہوں یا چند میچوں کے بعد جسم جواب دے جائے تو ایسی رفتار کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ 70 سے 80 فیصد طاقت کے ساتھ درست جگہ پر باؤلنگ کرنا اور سلور بالز سے بیٹر کو سرپرائز کرنا ہی اصل مہارت ہے۔

آئندہ کے اہداف اور 2027ء کا ورلڈ کپ

سری لنکا کے خلاف 2-1 سے فتح حاصل کرنے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد، نسیم شاہ کی نظریں اب انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف آئندہ ون ڈے سہ ملکی سیریز اور اس کے بعد جنوبی افریقہ میں ہونے والے 2027ء کے ون ڈے ورلڈ کپ پر جمی ہوئی ہیں۔ 2023ء کا ورلڈ کپ نہ کھیل پانے کے بعد، یہ ان کے کیریئر کا پہلا بڑا ون ڈے ورلڈ کپ ہوگا۔

نسیم شاہ نے کہا ’آپ ایک ہدف بناتے ہیں، لیکن انجریز اور کیریئر کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ وہ اہداف بدلتے رہتے ہیں۔ مگر میں نے ایک مقصد مقرر کیا ہے کہ مجھے ایک خاص سطح تک کرکٹ کھیلنی ہے، اور مجھے یقین ہے کہ میرا عروج ابھی باقی ہے۔‘

پاکستان کرکٹ اور شائقین کے لیے، جو نسیم کو 16 سال کے لڑکے سے 23 سال کے پختہ باؤلر بنتے دیکھ چکے ہیں، یہی امید ہے کہ وہ مستقبل میں قومی ٹیم کی فاسٹ باؤلنگ کی قیادت کرتے ہوئے مسلسل شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp