پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پہلے 27 ستمبر اور پھر 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلانات کیے گئے تھے۔ تاہم 10 اکتوبر تک سامنے آنے والی صورت حال میں مارچ کی سرگرمیاں بنیادی طور پر خیبر پختونخوا تک محدود دکھائی دیں۔
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے کوئی مزاحمت نہیں کی، صوبے میں کہیں پر بھی کوئی بڑا احتجاج نہ ہو سکا۔ اور پنجاب سے بڑے پیمانے پر قافلے روانہ ہونے کی توقع بھی پوری نہیں ہوسکی۔
مزید پڑھیں: کے پی حکومت کے ساتھ چلنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن یہ لوگ ابھی تک ڈی چوک سے باہر نہیں نکلے، وزیراعظم شہباز شریف
پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ ہمیں صوابی آنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم اب صوبے میں ایمرجنسی لگ گئی اور نئی کوئی ہدایت نہیں آئی ہے، فی الحال ہم روپوش ہیں۔
سینیئر تجزیہ کار منیب فاروق نے اس صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت سہیل آفریدی کے اوور کانفیڈنس کی وجہ سے ماری گئی ہے۔ کیوں کہ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم 40 لاکھ لوگوں کے ساتھ اسلام آباد آئیں گے اور عمران خان کو رہا کروائیں گے، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت بھی جانتی تھی کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب میں پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ کرتا ہوں کہ آئندہ کا کیا لائحہ عمل ہے اور کس طرح احتجاج کریں گے، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنی جان بچا رہے ہیں، پی ٹی آئی رہنماؤں نے یہ بھی کہا ہے کہ لوگ تو عمران خان کے لیے نہیں نکلتے تو اب کیا نکلیں گے۔ سہیل آفریدی کی گرفتاری اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بھی لوگ نہیں نکلیں گے۔
منیب فاروق نے کہاکہ لوگوں کو بھی سمجھ آ گئی ہے کہ ریاست کے خلاف کھڑا نہیں ہوا جا سکتا۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے بیشتر رہنماؤں کو بھی یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ احتجاج کر کے ہم نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔
’24 مئی اور 26 نومبر کو جب پی ٹی آئی اسلام آباد آئی تو اس سے پی ٹی آئی کارکنان کی جان و مال کا بہت زیادہ نقصان ہوا، اور اس سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘
انہوں نے کہاکہ اب رہنما بھی بڑا احتجاج کرنے سے ڈرتے ہیں، اور اسی طرح کارکنان بھی گریز کرتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ سہیل آفریدی نے جو یہ سیاسی خودکشی کی ہے، اس سے پی ٹی آئی کو کچھ حاصل ہوگا۔
منیب فاروق نے کہاکہ یہ گورنر راج تو ختم ہو جائےگا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایمرجنسی کی مدت آئندہ عام انتخابات تک بھی بڑھائی جا سکتی ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ نظام نے اپنی جڑیں بہت مضبوط کر لی ہیں، اور اب پی ٹی آئی کے لیے یہاں کوئی جگہ یا گنجائش نہیں ہے۔
پنجاب کی قیادت کہاں ہے؟
پی ٹی آئی کے لیے پنجاب سیاسی اور تنظیمی اعتبار سے ایک اہم صوبہ ہے، جہاں پارٹی کے منتخب نمائندے، سابق عہدیدار اور مقامی سطح پر سرگرم کارکن موجود ہیں۔ اس کے باوجود حالیہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران پنجاب میں وہ عوامی اجتماع دکھائی نہیں دیا جس کی توقع بڑے احتجاجی اعلانات کے بعد کی جا رہی تھی۔
گزشتہ روزپارٹی نے لبرٹی چوک پر احتجاج کی کال دے رکھی تھی تاہم نہ کوئی احتجاجی سرگرمی ہوئی نہ کوئی رہنما لبرٹی چوک آیا، اب یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ کیا پنجاب کی قیادت نے کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے مؤثر رابطہ کاری کی، کیا مختلف اضلاع میں ذمہ داریاں تقسیم کی گئیں اور کیا کارکنوں کو احتجاج کے مقام، وقت اور طریقۂ کار سے متعلق واضح ہدایات جاری کی گئی تھیں؟
پارٹی کی جانب سے احتجاج کی کال دیے جانے اور اس پر عملی پیشرفت کے درمیان فرق نے تنظیمی رابطوں کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
ارکان اسمبلی اور کارکنوں میں غیر یقینی صورت حال؟
لانگ مارچ کے حوالے سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں کارکنان کے ہمراہ صوابی پہنچنے کی تیاری کا کہا گیا تھا، تاہم بعد میں حالات تبدیل ہونے اور کے پی میں ایمرجنسی جیسے حکومتی اقدامات کے باعث انہیں آئندہ لائحۂ عمل کے بارے میں واضح صورت حال معلوم نہیں ہے، فی الحال رہنما روپوش ہیں۔
لانگ مارچ کے اعلان سے عملی صورت حال تک
پی ٹی آئی نے اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی، ان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور علاج کی بہتر سہولتوں کے مطالبات کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور احتجاج میں شرکت کی اپیل کی۔
اس کے باوجود پنجاب میں احتجاجی سرگرمیاں محدود رہنے کے باعث پارٹی کی ملک گیر حکمت عملی اور صوبائی سطح پر اس پر عملدرآمد کے درمیان فرق نمایاں ہوا ہے۔ اگرچہ خیبر پختونخوا میں مارچ کی سرگرمیاں جاری رہیں، لیکن پنجاب سے بڑے قافلوں کی عدم روانگی نے سیاسی دباؤ بڑھانے کے منصوبے کے عملی نتائج پر سوالات پیدا کیے ہیں۔
پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ، احتجاجی سرگرمیوں پر پابندیوں اور کارکنوں کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائیوں کے خدشات کو بھی اس صورت حال کے اہم عوامل میں شمار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: 13 سالہ اقتدار، پھر گورنر راج کیوں؟ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکمرانی پر بڑے سوالات
دوسری جانب پارٹی کے اندر رابطوں، قیادت کی دستیابی اور کارکنوں کو متحرک کرنے کے طریقۂ کار پر وضاحت کی ضرورت برقرار ہے۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز معین قریشی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں احتجاج کرنا دو مختلف چیزیں ہیں، پنجاب میں سخت کریک ڈاؤن ہو رہا ہے اور رہنماؤں یا کارکنان کو گھروں سے گرفتار کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، ابھی کوئی حتمی احتجاج کا اعلان پارٹی قیادت کی جانب سے نہیں کیا گیا۔













