جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سنایا۔ سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے نیب کی جانب سے انکوائری شروع کرنے میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا نیب اتنا عرصہ سویا رہا؟ ڈی جی نیب کی تقرری سے متعلق انکوائری پہلے کی جانی چاہیے تھی۔
شہزاد سلیم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب نے 9 سال بعد تقرری کی انکوائری شروع کی، جبکہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں یہ معاملہ پہلے ہی طے کر چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا
نیب کے پراسیکیوٹر نے اعتراف کیا کہ انکوائری میں تاخیر نیب کی جانب سے ہوئی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے پاس دستاویزی ریکارڈ موجود ہے جس کے مطابق شہزاد سلیم کی تعیناتی درست نہیں تھی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ جب سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا تو اسی وقت معاملے کی جانچ کرنی چاہیے تھی۔ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر شہزاد سلیم کی ترقیوں کی جانچ کی گئی تھی، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر ترقیوں کی جانچ کی گئی تھی تو نیب کو تقرری کا طریقۂ کار بھی دیکھنا چاہیے تھا۔













