مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ دیر کالونی اسکول سانحے میں بچوں کی اموات کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ان بچوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوتا تو مدارس کی رجسٹریشن کے دوران عمارتوں کا معائنہ اور ضروری دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں یا متعلقہ بلدیاتی اداروں کی جانب سے غفلت ہوئی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے سیاسی دباؤ کے باعث اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو اس معاملے کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:اسکولوں کی خستہ عمارتوں کی نشاندہی میں عوام کردار ادا کریں، ثمر ہارون بلور
ثمر ہارون بلور کے مطابق گورنر نے سخت ہدایات جاری کی ہیں اور مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں کا معائنہ کرنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ جن اداروں میں خامیاں پائی گئیں یا ضروری دستاویزات موجود نہ ہوئیں، انہیں بند کرایا جائے گا اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے اپنے حلقے کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور مین ہول کھلے پڑے ہیں۔ ان کے بقول گزشتہ 13 سال کے دوران عوام کے نام پر فنڈز حاصل کرنے کے باوجود علاقے کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو متعلقہ کونسل کے اجلاسوں میں اٹھایا جائے گا۔













