گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیر کالونی اسکول سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے لواحقین کے لیے 10، 10 لاکھ روپے اور زخمی بچوں کے لیے 3، 3 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری اور نجی اسکولوں کے این او سیز جاری کرنے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے 15 روز میں رپورٹ پیش کی جائے۔
دیر کالونی میں سانحے سے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ بچوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی دلخراش واقعہ ہے، کسی کے بچوں کا کوئی نعم البدل نہیں اور مالی امداد سے والدین کا غم کم نہیں کیا جا سکتا۔
جو بھی قصوروار ہوگا، اس کے خلاف ایکشن ہوگا۔ اگر میرا رشتہ دار بھی قصوروار ہوگا تو پہلے اس کو سزا ملے گی، پھر صوبے میں کسی اور کو سزا ملے گی۔ ایک طرف ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف یہ دہشت گرد ہیں جو قوم کے ساتھ، ملک کے ساتھ اور بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ اب سزا… pic.twitter.com/NWw1tOGzFA
— WE News (@WENewsPk) October 16, 2026
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اسکول کی اراضی کے معاہدے، لیز اور این او سی سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، تاہم ان کی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے۔ متعلقہ مشیر اور محکمے کو ہدایت کی گئی ہے کہ 15 دن کے اندر ذمہ داروں کا تعین کرکے رپورٹ پیش کریں۔
انہوں نے کہا کہ واقعے میں غفلت یا کوتاہی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور سزا و جزا کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ صوبے میں سرکاری اور نجی اسکولوں کا آڈٹ بھی کرایا جا رہا ہے تاکہ عمارتوں، قانونی تقاضوں اور اجازت ناموں کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:اسکولوں کی خستہ عمارتوں کی نشاندہی میں عوام کردار ادا کریں، ثمر ہارون بلور
گورنر کے مطابق اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
یہ وہ والی حکومت نہیں ہے کہ کمیٹی کا مطلب ہے کام مٹی ہو جائے، اس پر مٹی نہیں ڈالی جائے گی، اس سانحے کے معاملات کو باقاعدہ طور پر دیکھا جائے گا، فیصل کریم کنڈی pic.twitter.com/x3i5IlgbsP
— WE News (@WENewsPk) October 16, 2026
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ سابقہ حکومت کے دور میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی بھی تحقیقات کی جائیں گی اور جس افسر کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے آئے، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔













