مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے دیر کالونی سانحے میں بچوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے خیبر پختونخوا کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی حالت کا جائزہ لیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی نشاندہی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول سانحہ، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، ثمر ہارون بلور
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، جس میں 35 بچے شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے، سانحے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید ہونے والے بچے ہم سب کے بچے تھے اور ان کی شہادت پوری قوم کے لیے ایک بڑا المیہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید بچوں کے والدین کے ساتھ کھڑا ہونا، ان کے لیے دعا کرنا اور قرآن خوانی کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
ثمر ہارون بلور، ممبر ایڈوائزری کونسل برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا، صوبے میں سکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی اور معائنے کے لیے عوامی تعاون کی اپیل کے حوالے سے ویڈیو پیغام جاری کر رہی ہیں۔ pic.twitter.com/zWBJedGzms
— Samar Haroon Bilour (@SamarHBilour) October 16, 2026
مشیر اطلاعات کے مطابق، واقعے کے بعد خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے شہری واٹس ایپ، فیس بک اور ایکس کے ذریعے اپنے علاقوں کے اسکولوں کی حالت سے متعلق پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز بھیج رہے ہیں۔
’مردان کے گنبد ویلج سے بھی ایک انتہائی خستہ حال اسکول کی ویڈیوز موصول ہوئی ہیں، جس کا معائنہ کرنے کے لیے انسپیکشن ٹیم روانہ کر دی گئی ہے۔‘
ثمر ہارون بلور نے بتایا کہ گورنر کی ایڈوائزری کونسل کی جانب سے اسکولوں کی عمارتوں کے معائنے کے لیے 4 دن کا وقت دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: 13 سالہ حکومت کسی عذاب سے کم نہیں تھی، پشاور کھنڈر بن گیا، ثمر بلور کی پی ٹی آئی پر کڑی تنقید
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقوں کے اسکولوں کی عمارتوں اور ان کی مجموعی حالت کا جائزہ لیں اور اگر کسی عمارت میں دراڑوں، خستہ حالی یا کسی دوسرے ممکنہ خطرے کے آثار نظر آئیں تو متعلقہ تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹ کے نیچے شیئر کریں۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے عوام کا تعاون نہایت اہم ہے، شہریوں کی جانب سے بروقت نشاندہی سے اسکولوں کی عمارتوں میں موجود ممکنہ خطرات کی شناخت اور ان کے تدارک میں مدد مل سکتی ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے تعلیمی اداروں کو محفوظ بنایا جا سکے۔













