پاکستان کے بیٹنگ کوچ مائیکل اسمتھ نے کہا ہے کہ 2027 کے آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے پاکستانی بلے بازوں کو مختلف پچوں اور بولنگ اٹیک کے مطابق کھیلنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم کو چند نمایاں کھلاڑیوں پر انحصار کرنے کے بجائے بیٹنگ کے تمام نمبروں پر مضبوط متبادل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے گفتگو کرتے ہوئے مائیکل اسمتھ نے کہا کہ ورلڈ کپ سے قبل اگلے 12 ماہ کے دوران ٹیم کو مختلف ملکی اور غیرملکی میدانوں پر ون ڈے کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے گا، جس سے کھلاڑیوں کو مختلف حالات سے ہم آہنگ ہونے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی افریقہ کے مائیکل اسمتھ پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے بیٹنگ کوچ مقرر
2027 کا ون ڈے ورلڈ کپ اکتوبر اور نومبر میں جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا، جہاں مختلف میدانوں کی پچوں اور کھیل کے حالات پاکستانی بلے بازوں کے لیے بڑا چیلنج ہوں گے۔
مائیکل اسمتھ نے سری لنکا کے خلاف حالیہ ٹی 20 سیریز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایسی پچوں پر اچھا کھیل پیش کیا جہاں اضافی رفتار اور باؤنس موجود تھا۔ ان کے مطابق ٹیم نے یہ کنڈیشنز اس لیے منتخب کی تھیں کیونکہ ورلڈ کپ میں بھی اسی نوعیت کے حالات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف پچوں پر کھیلنا ضروری ہے، صرف ایک ہی قسم کی پچ پر کھیلنے سے تیاری مکمل نہیں ہوتی۔ ورلڈ کپ میں جنوبی افریقا اور زمبابوے کے مختلف میدانوں پر مسلسل میچز کھیلنے کے دوران بلے بازوں کو مختلف نوعیت کی پچوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
پاکستانی ٹیم کے ساتھ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل کام شروع کرنے والے مائیکل اسمتھ اب سری لنکا کے خلاف ٹی 20 سیریز کے بعد تینوں فارمیٹس میں قومی ٹیم کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔ وہ پاکستان سپر لیگ کے 2 سیزنز میں بھی کام کرنے کے باعث ملکی کنڈیشنز کا تجربہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے ایشلے نوفکے کی جگہ پاکستان ٹیم کے نئے بولنگ کوچ کا اعلان کر دیا
بیٹنگ کوچ نے کہا کہ ان کی کوچنگ کا بنیادی مقصد بلے بازوں میں مسائل کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے تاکہ وہ میچ کی صورت حال کو سمجھتے ہوئے درست فیصلے کرسکیں اور اپنے کھیل میں ضرورت کے مطابق تبدیلی لاسکیں۔
ان کے مطابق دنیا کے بہترین بلے باز دباؤ کی صورت حال میں بھی مؤثر فیصلے کرتے ہیں اور ٹیم کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ پاکستانی ٹیم کو بھی یہ صلاحیت پیدا کرنا ہوگی کہ وہ برتری کی حالت میں بھی میچ جیت سکے اور مشکل صورت حال سے نکل کر بھی کامیابی حاصل کرسکے۔
پاکستان کے بیٹنگ شعبے میں بابر اعظم، سلمان علی آغا اور فخر زمان جیسے تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں۔ بابر اعظم 143 ون ڈے میچز میں 20 سنچریاں بنا چکے ہیں، جبکہ 2023 کے ورلڈ کپ کے بعد سے سلمان علی آغا ایک ہزار سے زیادہ ون ڈے رنز بنانے والے واحد بلے باز رہے ہیں۔
فخر زمان بھی قومی ٹیم کے اہم بلے باز ہیں۔ وہ ون ڈے کرکٹ میں ڈبل سنچری بنانے والے پاکستان کے واحد کھلاڑی ہیں اور فارمیٹ میں پاکستان کے 4 بڑے انفرادی اسکورز میں سے 3 ان کے نام ہیں۔ ان میں ناقابل شکست 210، 193 اور ناقابل شکست 180 رنز کی اننگز شامل ہیں۔ ان میں سے 2 اننگز زمبابوے کے شہر بلاوایو اور جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں کھیلی گئی تھیں، جہاں 2027 کے ورلڈ کپ کے میچز بھی ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز، مائیک ہیسن کو عبوری ہیڈ کوچ برقرار رکھے جانے کا امکان
آئندہ ون ڈے سہ ملکی سیریز کے لیے منتخب اسکواڈ میں حسن نواز، صائم ایوب، وکٹ کیپر بلے باز محمد غازی غوری اور بغیر بین الاقوامی تجربے کے وکٹ کیپر سعد بیگ بھی شامل ہیں۔ آل راؤنڈرز شاداب خان، فہیم اشرف اور عرفات منہاس سے بھی نچلے نمبروں پر بیٹنگ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کی توقع ہے۔
مائیکل اسمتھ نے کہا کہ ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کو بیٹنگ کے ہر نمبر پر متبادل کھلاڑیوں کی مضبوط بنیاد تیار کرنا ہوگی۔ ٹیم کو صرف 2 یا 3 کھلاڑیوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہر پوزیشن پر بہترین کھلاڑیوں کی نشاندہی کرکے انہیں مناسب تجربہ فراہم کرنا ہوگا تاکہ وہ بڑے ٹورنامنٹ میں کامیابی کے لیے تیار ہوں۔
آئندہ سہ ملکی ون ڈے سیریز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کا مقصد ایسا کھیل پیش کرنا ہے جو کامیابی کی بنیاد بنے۔ اسکواڈ میں معیاری کھلاڑیوں کی بڑی تعداد موجود ہے، اس لیے کھلاڑیوں کو مواقع دینا اور بہترین امتزاج تلاش کرنا کوچنگ عملے کے لیے ایک اہم چیلنج ہوگا۔
انہوں نے ٹیم کے اندر سیکھنے کے مثبت ماحول کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجربہ کار کھلاڑی نوجوانوں کی رہنمائی کررہے ہیں۔ ٹیم چاہتی ہے کہ کھلاڑیوں کو مواقع دینے کے ساتھ انہیں یہ بھی سکھایا جائے کہ مسلسل فتوحات عادت بن جاتی ہیں اور مختلف حالات سے میچ جیتنے کی صلاحیت اچھی ٹیموں کی پہچان ہوتی ہے۔
مائیکل اسمتھ کے مطابق آئندہ مہینوں میں ٹیم کو کھلاڑیوں کی صلاحیتوں اور بیٹنگ میں گہرائی بڑھانے کے ساتھ میچز اور سیریز جیتنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ سے پہلے ایک سال تک محدود اوورز کی کرکٹ میں مسلسل اچھی کارکردگی کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافے کا اہم ذریعہ ہوگی۔











