صبح کے 8 بج کر 48 منٹ تھے، کسی ماں نے اپنے بچے کو اسکول بھیجتے وقت یہ نہیں سوچا ہوگا کہ یہ اس کی آخری ملاقات ثابت ہوگی، کسی باپ کو کیا خبر تھی کہ جس لختِ جگر کو علم حاصل کرنے کے لیے گھر سے رخصت کیا ہے، وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ پھر اچانک دیر کالونی کے اسکول پر قیامت ٹوٹ پڑی، 2 چھتیں زمین بوس ہوئیں اور معصوم بچے ملبے تلے دب گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول سانحہ: قوانین موجود ہونے کے باوجود پی ٹی آئی حکومت نے کسی اسکول پر کوئی توجہ نہ دی
جائے وقوعہ پر پہنچنے والے ریسکیو اہلکاروں کے سامنے ایک ایسا منظر تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ گراؤنڈ فلور پر موجود ننھے بچے ملبے تلے دبے تھے، کئی معصوم جانیں موقع پر ہی دم توڑ چکی تھیں۔ ہر طرف بھاری گارڈرز، ریت اور ملبہ تھا، جس کے نیچے ان خاندانوں کی امیدیں دفن ہوچکی تھیں جو اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے خواب دیکھ رہے تھے۔
ریسکیو ترجمان بلال احمد فیضی نے سانحے کی دل دہلا دینے والی روداد بیان کرتے ہوئے وی نیوز کو بتایا کہ امدادی کارروائی کے دوران انتہائی احتیاط سے ملبہ ہٹایا گیا۔ گارڈرز اور ریت کو آہستہ آہستہ نکالا گیا تاکہ شہید بچوں کو ملبے سے باہر نکالتے ہوئے ان کے تقدس اور احترام کا پورا خیال رکھا جا سکے۔ یہ محض ملبہ ہٹانے کا کام نہیں تھا بلکہ ان معصوم بچوں کی باقیات کو عزت و احترام کے ساتھ نکالنے کی ایک کرب ناک ذمہ داری تھی، جن کے والدین ان کی واپسی کے منتظر تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور اسکول سانحہ: ایف آئی آر درج، اہم انکشافات سامنے آگئے
تقریباً 5 گھنٹے تک ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ بھاری ملبے کے درمیان اہلکار انتہائی احتیاط سے امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے، مگر اس سانحے نے کئی خاندانوں کو ایسا زخم دیا جس کی کسک شاید عمر بھر ختم نہ ہو سکے۔
ریسکیو ترجمان بلال احمد فیضی کی بیان کردہ یہ روداد دیر کالونی کے اس المناک سانحے کی یاد دلاتی ہے، جہاں علم حاصل کرنے کے لیے اسکول آنے والے ننھے بچوں کی زندگیاں ایک ہی حادثے نے نگل لیں اور کئی ماؤں کی گودیں ہمیشہ کے لیے اجڑ گئیں۔













