پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ میں عمارت کے ساختی ڈھانچے کو کمزور قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کا باقاعدہ معائنہ کیا جاتا ہے یا متعلقہ قوانین صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔
واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ابتدائی رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کر دی ہے، جس کے مطابق اسکول کی عمارت کا ساختی ڈھانچہ کمزور تھا اور اسی وجہ سے 2 کلاس رومز کی چھتیں گر گئیں۔ صوبائی حکومت کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی سانحے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔
حادثے میں بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ تاہم، ابتدائی رپورٹ میں عمارت گرنے کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں تفصیلی تکنیکی تحقیقات کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے دیر کالونی اسکول سانحہ، شہدا کے لواحقین کو 10، زخمیوں کو 3 لاکھ روپے امداد ملے گی، فیصل کریم کنڈی
واضح رہے کہ جمعرات کی صبح دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت اس وقت گر گئی جب بچے اسمبلی کے لیے کلاس رومز میں موجود تھے۔ پولیس کے مطابق، حادثے میں 30 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہوئے، جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
ابتدائی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟
ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ریسکیو کنٹرول روم کو صبح 8 بج کر 48 منٹ پر چھت گرنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد ریسکیو کی ابتدائی ٹیم 7 منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ امدادی کارروائیوں میں 100 سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسکول کی عمارت 3 منزلہ تھی اور اسے گرڈروں اور اینٹوں کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا۔ عمارت کا ساختی ڈھانچہ کمزور تھا۔ پہلی منزل کے ایک کلاس روم کا ڈھانچہ منہدم ہو کر گراؤنڈ فلور کے کلاس روم پر آ گرا۔ حادثے کے وقت دونوں کلاس رومز میں طلبہ موجود تھے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق، پشاور کے 2 اسپتالوں میں مجموعی طور پر 89 مریض لائے گئے، جبکہ عمارت گرنے کی حتمی وجہ معلوم کرنے کے لیے تکنیکی تحقیقات کی جائیں گی۔
رجسٹریشن کے بعد اسکولوں کی عمارتوں کی نگرانی کون کرتا ہے؟
خیبر پختونخوا میں نجی اسکولوں کی رجسٹریشن اور ان کے انتظامی و تعلیمی امور کی نگرانی کے لیے پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی قائم ہے۔ متعلقہ قانون اور ضوابط کے تحت نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کے ساتھ مقررہ معیارات اور ضروری سہولیات کی جانچ بھی کی جاتی ہے۔ قانون کے مطابق، نجی اسکول کی رجسٹریشن کے وقت عمارت اور دیگر ضروری سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے ادارے کا دورہ کرنا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔
نجی اسکولوں کو ضابطوں کا پابند بنانے کے لیے قوانین اور الگ اتھارٹی موجود ہونے کے باوجود دیر کالونی کے واقعے نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پشاور اسکول سانحہ اور انتظامی غفلت!پشاور اسکول سانحے کے بعد یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ، حفاظتی قوانین اور ہدایات موجود ہونے کے باوجود پی ٹی آئی حکومت نے تعلیمی اداروں کی حالتِ زار اور انفرااسٹرکچر پر کوئی توجہ نہیں دی
مزید تفصیلات جانیے سراج الدین کی اس رپورٹ میں https://t.co/yXBye2LIox— WE News (@WENewsPk) October 16, 2026
کیا رجسٹریشن کے وقت عمارت کا معائنہ کرنے کے بعد اس کی مسلسل نگرانی بھی کی جاتی ہے؟ کیا اسکولوں کی عمارتوں کی مضبوطی، چھتوں کی حالت اور طلبہ کے لیے محفوظ ماحول کی دستیابی جانچنے کا کوئی مؤثر نظام موجود ہے؟ اگر کسی عمارت میں خامی سامنے آئے تو اسے دور کرنے کے لیے کیا کارروائی کی جاتی ہے؟
پشاور کے ایک نجی اسکول کے مالک نے بتایا کہ ان کا اسکول پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے دفتر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، لیکن آج تک کسی اہلکار نے ان کے اسکول کا دورہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق، رجسٹریشن کے وقت ان سے فیس وصول کی گئی، تاہم بعد میں کسی نے اسکول کی صورت حال جاننے کی زحمت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ کوئی اسکول کا معائنہ کرنے نہیں آتا اور اتھارٹی کے پاس تکنیکی عملہ بھی موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے پشاور اسکول سانحہ: ایف آئی آر درج، اہم انکشافات سامنے آگئے
ایک اور نجی اسکول کے مالک نے بھی اسی نوعیت کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اتھارٹی کی سرگرمیاں کاغذی کارروائی اور فیس وصولی تک محدود ہیں۔
خیبر پختونخوا پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے فضل اللہ دودزئی نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس مقصد کے لیے اتھارٹی قائم کر رکھی ہے اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، قانون کے تحت رجسٹریشن کے وقت تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
اسکولوں کی جانچ کے لیے تحصیل سطح پر کمیٹیاں قائم
دوسری جانب، ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور اس سلسلے میں ایک اجلاس بھی منعقد ہوا ہے، جس میں متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کریں گے۔ اسکولوں کی جانچ کے لیے تحصیل کی سطح پر کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں، جو تعلیمی اداروں کا معائنہ کریں گی۔ اس کے علاوہ، تمام عمارتوں کا سروے بھی کیا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق، سروے اور تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں کارروائی بھی کی جائے گی۔













