مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور سینیٹر عابد شیر علی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جس کا خمیازہ مسلح افواج، ایف سی، پولیس اور عوام بھگت رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے عوام، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اور معصوم شہری نہ صرف بدامنی بلکہ دہشتگردی کی بھٹی میں جل رہے ہیں۔
‘وی نیوز’ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سینیٹر عابد شیر علی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف وفاق کی جانب سے مہیا کیے گئے فنڈز کو ذاتی تشہیر اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ صوبے کے عوام کو دہشتگردی میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔
سابقہ حکمرانوں کے فیصلے اور کے پی کی ابتر صورتحال
ایک سوال کے جواب میں سینیٹر عابد شیر علی نے پھر زور دے کر کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشتگردی کی سب سے بڑی آماجگاہ بن چکا ہے، یہ صوبہ دہشتگردوں کے لیے ‘سیف ہیونز’ بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگ (ن) کے عابد شیر علی بلامقابلہ سینیٹر منتخب
انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کی طرف سے جتنے بھی سزا یافتہ دہشتگرد تھے، انہیں پی ٹی آئی حکومت کے دور میں جیلوں سے باہر نکالا گیا جس کا براہِ راست خمیازہ خیبر پختونخوا کے عوام، مسلح افواج کے شہدا، ایف سی کے جوانوں، پولیس اور معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑا ہے۔
اس صوبے میں دہشتگردی کے باعث ہزاروں بے گناہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
دہشتگردی کے خلاف فنڈز کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال
عابد شیر علی نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے وفاق سے ملنے والے فنڈز کو صوبائی حکومت اپنی ذاتی پولیٹیکل اچیومنٹس، تشہیر اور سیاسی عزائم کے لیے استعمال کرے گی اور صوبے کے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گی، تو صوبہ کے حالات مزید خراب ہوں گے، اب اس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تفصیلی بحث کے دوران تمام حقائق قوم کے سامنے رکھ دیے ہیں کیونکہ یہ امانت عوام کی ہے۔
ریاست کی بقا اور امن و عامہ پر کوئی سمجھوتا نہیں
عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہمارے لیے ‘ریاست’ سب سے پہلے ہے۔
انتخابات آتے جاتے ہیں اور عوام خوشحالی و امن کے لیے ووٹ دیتے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ انہیں کسی کی سیاسی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔
مزید پڑھیں:پارلیمنٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی کثرت رائے سے توثیق کردی
انہوں نے کہا کہ 12 اضلاع کے حالات یہ ہیں کہ لوگ شام 5 بجے کے بعد اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں۔ ریاست اس شاہی رویے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی اور جب تک اس صوبے میں مکمل امن بحال نہیں ہو جاتا، یہ جنگ جاری رہے گی۔
جس طرح ماضی میں ‘ضرب عضب’ اور دیگر آپریشنز کے ذریعے کامیابی حاصل کی گئی تھی، اسی عزم کے ساتھ اب بھی آگے بڑھیں گے۔
مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ ‘ڈائیلاگ’ کی طرف سنجیدہ پیش قدمی کی ہے۔
وزیراعظم نے اپنی تقاریر اور کابینہ کی میٹنگز میں بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ہم نے پُراسرار راستوں کے بجائے مذاکرات کو موقع دیا۔
تاہم مذاکرات میں ‘گیون اینڈ ٹیک’ (کچھ لو اور کچھ دو) کا اصول ہوتا ہے، لیکن جب دوسرا فریق بار بار یہ کہے کہ وہ اجازت لے کر آئیں گے تو پھر اس رویے سے معاملات بگڑتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی امور پر سیاسی لوگوں کو ہی بات کرنی چاہیے، مگر دہشتگردی کے خاتمے اور آپریشنز کے معاملے پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز
سینیٹر عابد شیر علی نے کہا کہ ہم اس عزم کی مکمل اونرشپ لیتے ہیں۔ ہماری سیکیورٹی فورسز، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھرپور سپورٹ فراہم کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:سینیٹ کمیٹی اجلاس میں تلخ کلامی، عابد شیر علی اور ایمل ولی خان میں سخت جملوں کا تبادلہ
انہوں نے کہا کہ صوبائی پولیس اس وقت خوف اور دباؤ کا شکار ہے، اسے مکمل طور پر ہتھیاروں سے لیس کیا جائے گا اور تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں، جن کی وجہ سے پاکستان کو نقصان پہنچا، کے خلاف فیصلہ کن انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھے جائیں گے۔
مشترکہ سیاسی ذمہ داریاں
عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ امن کا قیام اکیلی مسلم لیگ (ن) کی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ہم ان تمام سیاسی جماعتوں کے مشکور ہیں جنہوں نے اس مشکل دور میں قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے حکومت کا ساتھ دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ معاشی دہشتگردی کا بھی قلع قمع کرنا ہوگا۔ آنے والا وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ کے پی کے عوام کس کے ساتھ ہیں۔
انفراسٹرکچر کی ترقی اور سیاحت کا فروغ
انٹرویو کے اختتام پر صوبے کی خوشحالی اور ترقی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سینیٹر عابد شیر علی نے کہا کہ امن کے بعد صوبے میں حقیقی تبدیلی لائی جائے گی۔
کے پی کے عوام کو بہترین انفراسٹرکچر اور روڈ نیٹ ورک فراہم کیا جائے گا تاکہ پورے پاکستان کو اس کے ساتھ جوڑا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان دشمنوں سے ملاقاتیں، عابد شیر علی نے سوالات اٹھا دیے
انہوں نے کہا کہ جس طرح سندھ اور ملک کے دیگر حصوں میں موٹرویز بنائی گئیں، اسی طرح مانسہرہ اور سوات سے لے کر کالام تک موٹرویز کا جال بچھایا جائے گا۔
سوات اور کالام کو بین الاقوامی معیار کا ٹورسٹ پلیس بنایا جائے گا تاکہ سیاحت کو فروغ ملے مقامی لوگوں کی معیشت مستحکم ہو اور وہ اس تمام جھنجھٹ سے نکل کر پُرامن، خوشحال اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔











