فرانس بھر میں مہنگائی اور عوامی خدمات میں غفلت کے خلاف ہونے والے ہنگامہ خیز مظاہرے خونریز جھڑپوں میں بدل گئے، جن کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق، 500 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی اور تقریباً 1800 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
اتوار کی صبح فرانس کا منظر کسی جنگ کے میدان جیسا دکھائی دے رہا تھا جہاں ایک روز قبل ملک بھر میں ہونے والے شدید ترین مظاہرے بدترین ہنگاموں میں تبدیل ہو گئے۔ پیرس سمیت مختلف شہروں میں جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار اور پولیس سے جھڑپوں کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیں:البانیہ میں طلبہ کے پرتشدد مظاہرے تیسرے روز بھی جاری، وزیراعظم کا مستعفی ہونے سے انکار
دارالحکومت پیرس میں مظاہروں کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ایک شخص زندگی کی بازی ہار گیا، جبکہ پولیس نے ریکارڈ کارروائی کرتے ہوئے 855 افراد کو گرفتار کیا۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق ملک بھر میں ہنگامہ آرائی کے دوران 500 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
’یہ جنگ کا میدان لگ رہا ہے
پیرس میں موجود ڈچ کاروباری شخصیت تیجے ڈی بوئر نے اپنے بچوں کے ساتھ اس ہولناک صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک دوست سے ملنے آئے تھے، لیکن ہنگاموں کی وجہ سے انہیں ہوٹل خالی کرنا پڑا جو کہ پلازہ ڈی لا ریپبلک کے قریب واقع ہے اور شدید نقصان کا شکار ہوا۔
#France — A video has been published showing police blending into crowds in an attempt to provoke unrest.
As protests continue in France over concrete demands, including increased funding for education and an end to funding the war in Ukraine, far-right groups are trying to discredit demonstrations attended by millions of people by focusing on street clashes. Yet many of these clashes with the police begin after the police resort to uncontrolled violence and attacks, particularly against students.
On this platform, numerous far-right accounts, including football pages, are also doing everything they can to discredit the demonstrations attended by millions of people in France. Whenever they get the chance, these same accounts also promote the propaganda of neo-nazis who attack students.
— Antifa_Ultras (@ultras_antifaa) October 18, 2026
ملک بھر میں نصف ملین سے زیادہ افراد نے ان احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی۔ اس تحریک میں ایک ماہ پرانی طلبا تحریک اور مہنگائی و عوامی خدمات میں کمی کے خلاف اٹھنے والی عوامی آوازیں آپس میں مل گئی تھیں۔
تاریخی عمارتیں نذرِ آتش، کروڑوں یورو کا نقصان
ہنگاموں کے دوران پُرامن مظاہرین کے ساتھ ساتھ پرتشدد عناصر نے سرکاری عمارتوں، لگژری بوٹیکٹس اور سپر مارکیٹوں کو نشانہ بنایا۔ للی سے لے کر مارسیلے، اور اسٹراسبرگ سے لے کر بوردو تک صفائی اور مرمت کا وسیع آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جہاں بوردو میں ماسک پوش بلوائیوں نے مقامی پریفیکٹ کی رہائش گاہ پر بھی حملہ کیا۔
Massive protests in France against the high cost of living and the deterioration of public services. https://t.co/H3FUK6kcvC
— Globe Eye News (@GlobeEyeNews) October 18, 2026
لموگیس شہر میں 143 سال پرانی میونسپل کارپوریشن کی عمارت کو آگ لگا دی گئی جس سے وہ جزوی طور پر تباہ ہو گئی، جس کا موازنہ پیرس کے مشہور نوتردام کیتھیڈرل کے تاریخی سانحے سے کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:فرانس کے اسکول میں ہولناک فائرنگ، 14 سالہ طالب علم کے حملے میں ہیڈ ٹیچر اور خاتون اسٹاف ممبر زخمی
میئر گیوم گیرین نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر شہر کو عمارت کی مرمت کے لیے مطلوبہ ایک ملین یوروز نہ ملے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔
معیشت اور سیاست پر بڑھتا ہوا دباؤ
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون آج قوم سے اہم خطاب کریں گے۔ وزیراعظم سبیسٹین لیکورنو نے ان ہنگاموں کا ذمہ دار انتہائی بائیں بازو کے عناصر اور مجرموں کو ٹھہرایا ہے۔
یہ احتجاج بنیادی طور پر پچھلے ماہ ورکنگ کلاس کے مضافات میں اسکولوں کے حالات اور اساتذہ کی کمی کے خلاف شروع ہوا تھا، جو وقت کے ساتھ ساتھ عدم مساوات، عوامی اخراجات میں کٹوتیاں اور زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف ایک وسیع ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گیا۔
اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے اس ہنگامہ آرائی نے صدر میکرون اور ان کی حکومت پر سیاسی دباؤ کئی گنا بڑھا دیا ہے۔











