گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا جماعت اسلامی کے مرکز کا دورہ، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

منگل 20 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کا خاتمہ ناگزیر ہے، تاہم اسے بنیاد بنا کر خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کو معطل کرنا درست نہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جماعت اسلامی کے صوبائی ہیڈکوارٹر المرکز الاسلامی پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جماعت اسلامی کی صوبائی قیادت سے ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال، امن و امان اور دہشت گردی کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان پروفیسر ابراہیم خان، امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا شمالی عنایت اللہ خان، امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی عبدالواسع، امیر جماعت اسلامی ہزارہ عبدالرزاق عباسی، جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی صابر حسین اعوان اور نائب امرائے جماعت اسلامی خیبرپختونخوا صہیب الدین کاکاخیل اور حاجی محمد اسلم بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی کو جماعت اسلامی کے مؤقف سے آگاہ کرتے ہوئے پروفیسر ابراہیم خان نے کہا کہ جماعت اسلامی خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بحالی، دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ناگزیر سمجھتی ہے، تاہم ان مسائل کو جواز بنا کر منتخب صوبائی حکومت کی معطلی اور گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے جو پُرامن سیاسی، آئینی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور سیاسی معاملات کے حل کے لیے باہمی مکالمے، گفت و شنید اور روابط کو ضروری سمجھتی ہے۔

پروفیسر ابراہیم خان نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جماعت اسلامی کے صوبائی ہیڈکوارٹر آمد کا خیرمقدم بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال خراب ضرور تھی، لیکن حالات اس حد تک نہیں پہنچے تھے کہ وفاقی حکومت آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کا سہارا لے کر منتخب صوبائی اسمبلی کو معطل کرتی اور صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرتی۔

انہوں نے کہا کہ امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر وفاقی حکومت کو اس حوالے سے صوبائی حکومت کے کردار پر تحفظات تھے تو انہیں باہمی مذاکرات اور گفت و شنید کے ذریعے دور کیا جاسکتا تھا۔

جماعت اسلامی کی قیادت نے مؤقف اختیار کیاکہ خیبرپختونخوا میں موجودہ سیاسی بحران کے خاتمے، امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں کی مشاورت ضروری ہے۔

پروفیسر ابراہیم خان نے کہاکہ موجودہ سیاسی بحران وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جاری سیاسی تناؤ اور کشیدگی کے دوران دونوں فریقوں کی ضد اور غیر لچک دار رویوں کے باعث پیدا ہوا ہے۔

ان کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں عوام کے بنیادی حقوق سلب ہورہے ہیں اور خیبرپختونخوا کے عوام اپنے حق نمائندگی سے محروم ہوچکے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیاکہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی فوری ختم کرکے منتخب صوبائی حکومت کو بحال کیا جائے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے وفاقی حکومت اور تحریک انصاف دونوں کو سنجیدگی اور آمادگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا شمالی اور سابق سینیئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے کہاکہ اس وقت خیبرپختونخوا میں 2 مختلف انتظامی بندوبست نافذ ہیں۔ صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی جبکہ باقی علاقوں میں گورنر راج نافذ ہے، جس کے باعث صوبے کی آئینی اور انتظامی وحدت تقسیم ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ضم شدہ قبائلی اضلاع کو خیبرپختونخوا کا آئینی حصہ سمجھتی ہے اور ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتی ہے جس کے ذریعے مستقبل میں عوامی رائے کے برعکس صوبے کی آئینی وحدت کو غیر آئینی طریقے سے تقسیم کرنے کی کوشش کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp