امریکی محققین نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی پر مبنی ایک ایسا ٹول تیار کیا ہے جو چہرے کی ایک تصویر کا تجزیہ کرکے کینسر کے مریضوں کی بیماری کی شدت اور متوقع بقا کے بارے میں اندازہ لگانے میں مدد دے سکتا ہے۔
محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ڈاکٹروں کو مریضوں کے لیے مناسب علاج تجویز کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اسے اسپتالوں میں استعمال کرنے کے لیے ابھی مزید تحقیق اور جانچ کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی وائرس یا جرثومہ نظروں سے اوجھل نہیں رہے گا؟ جینیاتی ٹیسٹنگ میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت سے بڑی پیشرفت
تحقیق کے ابتدائی نتائج طبی جریدے ’لینسیٹ ڈیجیٹل ہیلتھ‘ میں شائع ہوئے ہیں، محققین نے اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت کے 2 الگ الگ ٹولز تیار کیے ہیں، جن میں سے ایک کینسر کے مریضوں کی بقا کا اندازہ لگانے جبکہ دوسرا ان کی حیاتیاتی عمر کا تعین کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
امریکی شہر بوسٹن کے ادارے میساچوسٹس جنرل بریگھم سے وابستہ محققین کے مطابق ’فیس سروائیول‘ نامی اے آئی ٹول چہرے کے مختلف خدوخال کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے۔
A simple selfie could hold surprising clues to your overall health and longevity, especially among people with cancer. Read more at the link in our bio. pic.twitter.com/IKGJCVcO2l
— KRDO13 (@KRDO_13) October 21, 2026
اس نظام کو لاکھوں صحت مند افراد کے چہروں اور کینسر کے مریضوں کی تقریباً 35 ہزار تصاویر کی مدد سے تربیت دی گئی ہے۔
تحقیق میں سامنے آیا کہ آنکھوں کے نیچے اور ناک کے اوپری حصے کے قریب موجود خدوخال کینسر کے مریضوں کی بقا سے متعلق اندازوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ نتائج مختلف اقسام کے کینسر میں دیکھے گئے، جن میں ایسے مریض بھی شامل تھے جن کی بیماری ہڈیوں یا دماغ تک پھیل چکی تھی۔
مزید پڑھیں: کوئی وائرس یا جرثومہ نظروں سے اوجھل نہیں رہے گا؟ جینیاتی ٹیسٹنگ میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت سے بڑی پیشرفت
تحقیق میں امریکا اور نیدرلینڈز کے مریض شامل تھے، جن میں بچوں سے لے کر 90 سال سے زائد عمر کے افراد تک موجود تھے۔
تحقیق کے مرکزی محقق ڈاکٹر ریمنڈ میک کے مطابق عمر رسیدہ آبادی میں اضافے کے باعث ڈاکٹروں کو ایسے بہتر طریقوں کی ضرورت ہے جن سے مریض کی جسمانی استعداد اور کمزوری کا اندازہ لگا کر ریڈی ایشن، سرجری یا دیگر شدید علاج کے بارے میں فیصلہ کرنے میں مدد مل سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد ڈاکٹروں کے فیصلوں کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان میں بہتری لانا ہے۔
مزید پڑھیں: پروٹین سے بھرپور غذاؤں میں ٹوفو پہلے نمبر پر، گوشت، مچھلی اور انڈے پیچھے رہ گئے
دوسرا ٹول ’فیس ایج‘ کسی شخص کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، اس میں منہ اور ناک کے اطراف، پیشانی، کنپٹیوں اور گالوں کے خدوخال کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
محققین کے مطابق تمباکو نوشی، زیادہ شراب نوشی اور منشیات کا استعمال عمر بڑھنے کے ظاہری آثار کو تیز کر سکتا ہے۔
تاہم برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے کے ماہر پروفیسر میروسواف بوبَر نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی طبی استعمال کے لیے تیار نہیں۔
مزید پڑھیں: بچوں میں کینسر کی علامات کو نظرانداز نہ کریں، کن نشانیوں پر والدین کو خبردار ہوجانا چاہیے؟
ان کے مطابق اسے ڈاکٹروں کے جائزوں، مختلف اسپتالوں اور متنوع مریضوں پر آزمانا ضروری ہے، محققین نے بھی واضح کیا ہے کہ مختلف نسلی گروہوں سے مزید تصاویر اور ڈیٹا حاصل کیے بغیر اس کی درستگی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ممکنہ نتیجے کی پیشگوئی کرنا اور اس کی وجوہات کی وضاحت کرنا 2 مختلف چیزیں ہیں، اس لیے اس ٹیکنالوجی کو فی الحال ایک ابتدائی تحقیقی پیشرفت ہی سمجھنا چاہیے۔










