گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مراد سعید کی افغانستان میں موجودگی سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مراد سعید اب بھی افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں تو پاکستان تحریک انصاف دہشتگرد عناصر کے خلاف کیسے آواز اٹھائے گی؟ انہوں نے علی امین گنڈاپور کے ساتھ اپنے تعلق کے حوالے سے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور میرے دوست نہیں بلکہ بدقسمتی سے رشتہ دار ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہاکہ پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ اقتدار کا حساب محض 11 دن میں نہیں لیا جا سکتا، تاہم صوبے میں تجاوزات کے خاتمے، صفائی ستھرائی اور انتظامی امور میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
علی امین گنڈا پور میرے دوست نہیں غلطی سے رشتہ دار ہیں، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی https://t.co/Hhww6QYF5t
— WE News (@WENewsPk) October 21, 2026
انہوں نے خبردار کیاکہ تجاوزات کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی، جبکہ کسی انتظامی افسر کے ملوث پائے جانے پر اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کے لیے 100 روزہ منصوبے سمیت مختلف اقدامات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی بہت جلد پشاور کا دورہ کریں گے۔
اضاخیل میں ناقص گندم کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ بھی موصول ہو چکی ہے۔
صوبے میں معدنیات پر قبضے سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے الزام عائد کیاکہ بعض سیاسی جماعتیں اس معاملے پر غلط خبریں پھیلا کر عوام میں گمراہ کن تاثر پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں توڑ پھوڑ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک سیاسی جماعت توڑ پھوڑ کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس کی تمام ضروریات پوری کی جائیں گی، جبکہ جس ادارے کو بھی معاونت کی ضرورت ہوگی، اسے فراہم کی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہو چکا ہے، جبکہ وفاقی سطح پر بھی اپیکس کمیٹی کا اجلاس جلد بلایا جائےگا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے معاملات پر دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں وہ خود عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان اور جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کے لیے گئے ہیں۔











